مردم شماری کرانے کا صائب فیصلہ
قانون کے تحت مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں لازمی ہوتی ہیں
لاہور:
مشترکہ مفادات کونسل نے آئندہ سال 15 مارچ سے قومی مردم شماری کرانے پر اتفاق کیا ہے جس میں خانہ شماری اور مردم شماری ایک ساتھ کی جائے گی۔ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس گزشتہ روز یہاں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہوا جس میں اتفاق کیا گیا کہ مردم شماری دو مراحل میں کرائی جا سکتی ہے جب کہ ہر مرحلہ تمام صوبوں میں بیک وقت شروع کیا جائے گا۔
بلاشبہ اس غیر مشروط اتفاق اور حکومتی رضامندی کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ''بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں۔'' یاد رہے کہ 18 نومبر کو سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ حکومت مردم شماری کرانے پر واضح اور غیر مشروط ٹائم فریم دے، عدالت نے اس ضمن میں حکومتی وضاحتوں اور تاویلات پر مبنی رپورٹ بھی مسترد کر دی تھی، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ہم اپنے 2009ء کے فیصلہ پر عمل کرنے کے لیے بیٹھے ہیں، عمل نہیں کرنا تو سپریم کورٹ کو بند کر دیں۔
چیف جسٹس کا صائب استفسار تھا کہ کہاں لکھا ہے کہ مردم شماری کے لیے فوج کی نگرانی لازمی ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ اگر سیکیورٹی مسائل کے باوجود انتخابات ہو سکتے ہیں تو مردم شماری کیوں نہیں ہو سکتی۔ غالباً ان ہی ریمارکس میں مضمر پیغام اتنا واضح تھا کہ حکومت کے لیے اسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ چنانچہ گزشتہ روز کے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اتفاق پایا گیا کہ مردم شماری صوبائی حکومتوں کے مربوط رابطے سے کی جائے گی۔
سی سی آئی نے عمل درآمدی مسائل طے کرنے کے لیے سیکریٹری شماریات اور چاروں چیف سیکریٹریز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ یہ خوش آئند اقدام ہے کہ مردم شماری جیسی اہم آئینی ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے اب کسی قسم کو کوئی ابہام موجود نہیں۔ بعض مبصرین تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ مردم شماری کو طول دینا بھی کرپشن ہے۔ یہ
درست ہے کہ محکمہ شماریات نے اپنا موقف بھی دیا کہ فوج کی نگرانی میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا ہے تا کہ شفافیت اور سیکیورٹی قائم رہے، تاہم محکمہ نے جن 2 لاکھ 88 ہزار فوجی اہلکاروں کی ضرورت کی بات کی ہے اگر فوجی اہلکار دستیاب نہ ہوئے تو اس کے متبادل افرادی قوت کی فراہمی کسی تاخیر کا سبب نہ بننے پائے، ارباب اختیار کو اس امر کا ادراک ضرور کرنا چاہیے کہ گزشتہ 18 برسوں سے مردم شماری نہیں ہوئی مگر گلشن کا کاروبار تو حکمرانوں نے خوب چلایا، جب کہ مردم شماری ملکی آبادی اور دیگر ڈیموگرافک حرکیات کو مد نظر رکھتے ہوئے کرائی جاتی ہے تا کہ قومی ترقی و خوشحالی کے اہداف سائنسی طریقہ کار کے تحت جمع شدہ ڈیٹا اور آبادی کے شفاف اعداد و شمار کے پیش نظر کے ساتھ مکمل کیے جا سکیں جب کہ مذکورہ مدت کا خلاء حکمرانوں کے سیاسی ارادہ کے فقدان کا پتہ دیتا ہے یا یہ بھی عجیب بات دیکھی گئی ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں بھی مردم شماری سے اس لیے گریزاں رہتی ہیں کہ کہیں اس سے ان کا ووٹ بینک نہ متاثر ہو جائے، کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے البتہ مردم شماری کا ہمیشہ مطالبہ کیا، اس لیے اب کسی بہانے سے مردم شماری موخر نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں جمعہ کو ہونیوالے مشترکہ مفادات کو نسل کے اجلاس میں ملک کی 6ویں مردم و خانہ شماری 15 مارچ 2017ء کو کرانے کے اہم فیصلے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی شماریات ڈویژن اور ادارہ شماریات کو ہدایت بروقت ہے کہ وہ مردم شماری و خانہ شماری کو مقرر کیے گئے وقت پر یقینی بنانے اور مردم شماری و خانہ شماری کی تیاری کے لیے تما م ضروری اقدامات کریں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مردم شماری کرانے کے اعلان کے بعد آئندہ انتخابات2018ء نئی حلقہ بندیوں پر کرائے جانے کا امکان ہے۔
قانون کے تحت مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں لازمی ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیاں کرانے کے لیے آٹھ ماہ درکار ہونگے، ادھر بلوچستان کے علاقہ نوشکی سے خبر آئی ہے کہ مردم شماری تحفظات دور کیے بغیر قابل قبول نہیں 60 فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں، مردم شماری بلوچ قوم کو مزید محرومی سے دوچار کریگی۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ' بابو رحیم مینگل اور دیگر نے بادینی ہاؤس نوشکی میں ظہرانے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ترقی و خوشحالی کے مخالف ہیں نہ مردم شماری کے مگر شناختی کارڈوں کے بنا مردم شماری قابل قبول نہیں ہو گی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلہ پر اس کی روح اور الفاظ کی روشنی میں عمل درآمد کرنے کو یقینی بنایا جائے اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو مردم شماری کے عملے سے مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ بد انتظامی نے ملکی اداروں کو کمزور کیا ہے، تاہم مردم شماری پولیو مہم سے بالکل مختلف چیز ہے، اس کا اکثریتی علاقوں میں سیکیورٹی ایشو بھی نہیں ہے اور تمام صوبائی حکومتیں ٹاسک فورس بنا کر مردم شماری مہم کو طے شدہ مدت میں مکمل کر سکتی ہیں۔