کنٹرول لائن پر بھارت کی پھر اشتعال انگیزی
کنٹرول لائن پر ہونے والی مسلسل کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے
بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر نکیال سیکٹر میں ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک اسکول وین پر بلااشتعال فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں بس کا ڈرائیور شہید اور 10 طالب علم زخمی ہو گئے جن میں 3 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ فائرنگ کا نشانہ بننے والی وین میں اسکول کے 20 طلباء سوار تھے جن کی عمریں 8 سے 15 برس کے درمیان تھیں۔
بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو جمعہ کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا گیا جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے شہریوں پر فائرنگ ناقابل قبول اور افسوسناک ہے۔ بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایل او سی پر 2003ء کے سیزفائر معاہدے کی پاسداری کرے اور سویلینز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکا جائے۔ گزشتہ ماہ 29 نومبر کو جنرل قمر باجوہ کی جانب سے پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز کنٹرول لائن پر سیزفائر کی خلاف ورزی کرتی رہتی ہے۔ اس بار تو اسکول کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا جو انتہائی اشتعال انگیز کارروائی ہے۔
یہ عالمی قانون ہے کہ جنگ کے دوران بھی بچوں، اسکول یا اسپتال وغیرہ کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ اگر کوئی فورس ایسا کرتی ہے تو اسے جنگی جرم سمجھا جاتا ہے لیکن بھارت شاید ان قوانین کو خاطر میں نہیں لاتا۔ پاکستان نے بھارت سے اس واقعہ پر احتجاج کیا ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سے قبل بھی جتنے واقعات رونما ہوئے اس پر پاکستان نے بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔ اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ الٹا بھارت نے بھی ایسا ہی کر دیا۔ آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطہ کاری بھی رہتی ہے اس کے باوجود کنٹرول لائن پر حالات کیوں کشیدہ رہتے ہیں۔
کنٹرول لائن پر ہونے والی مسلسل کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو یہ کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ سرحدوں کا احترام دونوں ملکوں پر لازم ہے۔ اس معاملے پر دونوں ملکوں کی قیادت کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی سے یہ سلسلہ حل نہیں ہو گا بلکہ زیادہ بگڑے گا۔ حالات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے دونوں ملکوں کو کنٹرول لائن پر سیزفائر کر یقینی بنانا چاہیے اور مذاکرات کا سلسلہ بحال ہونا چاہیے تاکہ اس مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جائے۔