شام کا المیہ

شام میں جتنے فریق لڑ رہے ہیں ان کا نقصان ہوتا ہے یا نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ شام کے عوام مارے جا رہے ہیں


Editorial December 18, 2016
فوٹو: فائل

لاہور: شام میں تقریبا پانچ سال سے جاری بدترین خانہ جنگی میں، جس میں رفتہ رفتہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ ساتھ بڑی عالمی طاقتیں بھی ملوث ہو چکی ہیں اور یوں صورت حال سب کے قابو سے باہر ہوتی چلی گئی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس خانہ جنگی کے شرکا کی تعداد کا ہی کوئی اندازہ نہیں ہو پاتا سوائے اس کے کہ ہلاک ہونے والوں اور بے گھر ہونے والے لاکھوں سے متجاوز ہیں جو دنیا بھر میں پناہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، چھوٹی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے محیطِ بے کراں عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کتنے خاندان اپنے ننھے منے بچوں سمیت تہہ آب بسیرا کر لیتے ہیں۔

انسانی المیے کی یہ ہولناک کہانیاں بھی ہمیں مغربی میڈیا کی وساطت سے ہی ملتی ہیں اور ساتھ میں یہ طنزیہ باتیں بھی کہ بے گھروں کے دیگر ہم مذہب تو ہمارے یورپی ملکوں کی نسبت ان کے زیادہ قریب ہیں وہ انھیں کیوں پناہ نہیں دیتے۔ اب کچھ دن پیشتر شام کے علاقے الیپو سے پھنسے ہوئے خاندانوں کے انخلاء کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا ہے جس سے مزید ہزاروں افراد وہاں پھنس گئے ہیں۔ دریں اثنا شامی شہر حلب کے مشرقی حصے سے بھی شہریوں اور باغیوں کا انخلا رک گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد پھنس کر رہ گئے ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق بشار حکومت نے حلب سے انخلا کو معطل کیا ہے۔ ادھر روس نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے شہر سے انخلا کے بعد آپریشن مکمل ہوگیا ہے جب کہ ترک اور شامی فوجی ذرائع کے مطابق انخلا معطل کیا گیا ہے ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ان اطلاعات سے شام کی صورت حال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شام میں جتنے فریق لڑ رہے ہیں ان کا نقصان ہوتا ہے یا نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ شام کے عوام مارے جا رہے ہیں۔ شہر کھنڈر بن گئے ہیں جب کہ امریکا، روس، ترکی، ایران اور یورپی ممالک اپنے اپنے مفادات کی تقسیم کے لیے شطرنج بچھائے ہوئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جو بڑے انسانی المیے رونما ہوئے ہیں، شام کا انسانی المیہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

مقبول خبریں