انکل یا چچا
جس طرح بزرگوں کی باتوں پر گرفت کرنا اچھا نہیں ہوتا اسی طرح معصوموں کی معصومانہ باتوں پر گرفت کرنا غلط ہے
جس طرح بزرگوں کی باتوں پر گرفت کرنا اچھا نہیں ہوتا اسی طرح معصوموں کی معصومانہ باتوں پر گرفت کرنا غلط ہے، جناب بلاول خود کو کچھ بھی کہیں یا سمجھیں اور پارٹی کے روٹی کپڑا مکان والے جیالے انھیں کچھ بھی خطاب دیں لیکن ہماری نگاہ میں وہ معصوم ہیں بلکہ ہم تو انھیں ایسا معصوم سمجھتے ہیں جن کی معصومیت چھین لی گئی جو ان کے ہنسنے مسکرانے کھیلنے کودنے ۔ یعنی کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی والے دن تھے وہ اس کم بخت سیاست نے ان سے چھین لیے، بلکہ ان پر دوہرا ظلم ہوا کہ ایک توان سے ماں چھین لی اور دوسری طرف بچپن کا پرمسرت دور بھی چھن گیا
جیسی بچھڑی ہوں میں ایسا بھی نہ بچھڑے کوئی
جیسی اجڑی ہوں میں ایسا بھی نہ اجڑے کوئی
مورا بچپن بھی گیا مورا سہارا بھی گیا
مری صورت بھی گئی میرا ستارا بھی گیا
چنانچہ ہم ان کی معصومیت پر گرفت تو نہیں کریں گے لیکن معصومانہ باتوں پر پیار کا اظہار تو کر سکتے ہیں بلکہ شبھ چنتک ہونے کے ناطے اگر کہیں رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے تو کسی کی نشانی سمجھ کر ضرور کریں گے، یہ بھی ان کی معصومیت کی ایک ادا ہی ہے کہ اچھے بچوں کی طرح بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور کوئی نہ کوئی رشتہ قائم کر کے بات کرتے ہیں، مثلاً اب انھوں نے اسی معصومانہ انداز میں کہا ہے کہ چاچا عمران میں ثابت کروں گا کہ آپ واقعی میرے چاچا ہیں، حالانکہ منہ بولا رشتہ ثابت کرنے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ ماننے اور محسوس کرنے کی چیز ہوتی ہے کوئی کسی کا کچھ بھی نہ لگتا ہو اگر بولنے والا اسے کسی رشتے سے پکارتا ہے تو یہی کافی ہوتا ہے۔
جہاں تک ہمارا اندازہ ہے بلاول سلمہ کو اردو یا کوئی بھی مقامی زبان حتیٰ کہ سندھی بھی کچھ زیادہ ازبر نہیں ہے اس لیے انھوں نے یقیناً ''چاچا'' بلکہ انکل کہا ہو گا اور اس خیال کو مزید تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ پی پی پی میں ''انکلوں'' کا رجحان بہت پایا جاتا ہے، محترمہ بے نظیر کے بھی بہت سارے انکل تھے یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے اکثر پکے چکے اور خاصے پرانے انکلوں کا زرداری صاحب نے ''الف'چھین لیا اور وہ صرف ''نکل'' رہ گئے، ویسے یہ رشتہ ہے ہی ایسا کہ ۔۔۔ کہ ذرا سا ہلنے جلنے پر اس کا الف گر جاتا ہے انگریزی میں شاید اتنی جلدی نہ گرتا ہو لیکن اردو میں تو بات بات پر ''انکل'' بے چارا اپنے الف سے محروم ہو کر ''نکل'' رہ جاتا ہے
قضا نے تھا مجھے چاہا ''خراب بادہ الفت''
فقط ''خراب'' لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
ویسے اس معاملے میں ہم یکطرفہ فیصلہ بھی نہیں دے سکتے، ممکن ہے ان ''انکلوں'' نے خود ہی اپنے اعمال یا لاپروائی سے اپنا ''الف'' کھو دیا ہو یا کثیر استعمال سے گھس گیا ہو کیونکہ اصلی انکل تو تھے نہیں اور مصنوعی چیزیں اتنی دیرپا نہیں ہوتیں، لیکن اس میں کسی کو بالکل بھی شک نہیں ہے کہ محترمہ بی بی بے نظیر شہید نے جن انکلوں کو انکل کے مرتبے پر فائز کیا تھا خلوص سے فائز کیا تھا اب کوئی نااہلی سے اپنا ٹائٹل کھو دے تو اس میں ٹائٹل دینے والے کا کیا دوش؟ ہمیں پوری طرح جانکاری حاصل نہیں ہے کہ محترمہ کے ''انکل'' اب کتنے باقی رہ گئے ہیں جو ''نکل'' یا مرحوم نہیں ہو چکے ہیں لیکن کچھ نہ کچھ تو باقی ضرور ہوں گے اور اگر ہیں تو وہ بلاول کے کیا لگتے ہوں گے اصولی طور پر انھیں تو اب ''دادا'' کے عہدے پر ترقی ملنی چاہیے لیکن وہی بات کہ منہ بولے رشتے اتنے پائیدار نہیں ہوتے لیکن پھر بھی یہ ایک سوال تو ہے کہ اب بلاول انھیں کیا کہہ کر بلائیں گے، انکل توکہہ نہیں سکتے کیوں کہ یہ کچھ جمتا نہیں ہے ویسے بھی انھوں نے اب اپنے نئے انکلوں کا اپنا خود کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے جس میں پہلا نمبر ہماری اخباری اطلاعات تک جناب عمران خان کا ہے۔
ہمارا مطلب سیاسی انکلوں سے ہے ورنہ اپنے حقیقی انکل تو ان کے ہوں گے جو چاہے نہ چاہے ان کے انکل ہیں ہاں اس فقرے میں بین السطور ایسی کوئی بات ہے جو کھٹک رہی ہے ہمیں ہی نہیں خود بلاول کو بھی کھٹک رہی ہے اس لیے تو کہا ہے کہ ... میں ثابت کروں گا کہ آپ واقعی میرے انکل ہیں، مطلب یہ کہ اس رشتے کے لیے ایک طرف سے تو ''ہاں'' ہے لیکن دوسری طرف سے کچھ بے یقینی سی پائی جاتی ہے اس لیے تو وہ فرما رہے ہیں کہ میں ثابت کروں گا، مطلب یہ کہ ابھی رشتہ ثابت کرنا باقی ہے اور ایسا تب کہا تھا جب فریق دوم نے ابھی اس رشتے کو ''اوکے'' نہ کر دیا ہو، بہرحال جناب بلاول نے تو اپنی طرف سے گیند عمران خان بلکہ انکل عمران خان کے کورٹ میں پہنچا دی ہے اب آگے انکل کا کام ہے کہ وہ انکل بنتے ہیں یا بدستور ''نکل'' رہنا چاہتے ہیں۔
ویسے ہمیں ایک مرتبہ پھر ان پرانے یا پہلی نسل کے انکلوں کا خیال آتا ہے جو صاف صاف ''نکل'' تو نہیں ہوئے ہیں ... لیکن پھر بھی انکلوں کی نئی شاخ میں تو شامل نہیں ہو سکتے کیونکہ اب ان کی پوزیشن داداؤں کی ہے، اس مرحلے پر اچانک ہمارے دل میں ایک شبے نے سر ابھارنا شروع کیا ہے، ہو سکتا ہے کہ بلاول نے واقعی انگریزی میں انکل کے بجائے چاچا کہا ہو، اور ہم ہی انکل کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہوں، تو چلیے انکل کو ہم بھی ''نکل'' کرتے ہیں اور فرض کیے لیتے ہیں کہ انھوں نے چچا یا چاچا ہی کہا ہو گا اگر ایسا ہے تو پھر ''ویسا'' بھی ہو سکتا ہے یعنی آج کل کے دور میں یہ پرانے منہ بولے رشتے کچھ زیادہ پرکشش نہیں رہے بلکہ ان پر برائی کا گرد و غبار پڑتا جا رہا ہے مثلاً ''ماموں'' کو لے لیجیے، ماموں بناناایک نیا مطلب لے کر سامنے آیا ہے۔
چاچا کے بارے میں تو ابھی ایسا کوئی نیا پن سننے میں نہیں آیا ہے لیکن کیا پتہ چاچا ماموں انگریزی میں دونوں ہی ''انکل'' ہوتے ہیں اور اگر ماموں یا مامے کی درگت بن گئی تو خربوزے کو دیکھ کر دوسرے خربوزے کا وہی رنگ پکڑنا کچھ ناممکن نہیں ہے یعنی ہو سکتا ہے کہ جس طرح ''ماموں بنانا'' کا مطلب کسی کو بے وقوف بنانا ہے تو سیدھی سی بات ہے بے وقوف بننا کسی کو پسند نہیں ہو گا۔ اسی طرح کچھ عرصے بعد چاچا یا چاچے کا کوئی ناپسندیدہ پہلو بھی سامنے آ جائے، حیرت ابھی تو دوسری طرف سے ''ہاں'' اور پہلی طرف سے ''ثابت'' کرنے کا مرحلہ باقی ہے اس کے ساتھ یہ بھی صاف ہو جائے گا کہ عمران خان انکل ہیں یا چاچا ہیں، ویسے ہم خان صاحب سے بھی گزارش کریں گے کہ اتنے کٹھور نہ بنیے جب بچہ اتنی معصومیت سے چاچا کہہ رہا ہے تو مان لیجیے ۔