پولیس نظام حکومت میں ریڑھ کی ہڈی
آصف زرداری نے بلاول کے ساتھ پارلیمنٹ میں آنے کا اعلان کر دیا ہے
آج لکھنے کو بہت سے موضوعات ہیں۔ ایک طرف آصف زرداری نے بلاول کے ساتھ پارلیمنٹ میں آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میری رائے میں یہ آصف زرداری کی جانب سے بلاول پر عدم اعتماد ہے۔ ایسے ہی جیسے ہم کسی چھوٹے بچے کو اکیلے پارک میں کھیلنے جانے نہیں دیتے اور ساتھ چلے جاتے ہیں۔ جناب آصف زرداری بلاول کو اکیلے پارلیمنٹ میں نہیں جانے دینا چاہتے کہ ابھی اسے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ اس سے زیادہ اس اعلان میں قابل تبصرہ کوئی بات نہیں ہے۔
دوسری طرف سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سعودی شاہی جہاز لینے پہنچ گیا ہے۔ لیکن یہ بھی کوئی خبر نہیں۔ بچے بچے کو پتہ تھا کہ انھیں سعودی عرب کی طرف سے پیشکش ہے۔ تقریباً سب کو ہی پتہ تھا کہ وہ سعودی عرب جائیں گے۔یہ بھی کوئی بڑی خبر نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے صاف پانی کمپنی کے سی او کو معطل کر دیا ہے۔ یہ اچھی خبر ہے۔ پنجاب حکومت میں احتساب کا ایک عمل شر وع ہو چکا ہے۔ پہلے پنجاب لینڈ ریکارڈ میں وزیر اعلیٰ نے سخت ایکشن لیا ہے اب صاف پانی کمپنی کا سی او چلا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ باقی نا اہل بھی لائن میں ہیں۔ لیکن یہ حکومت کا فرض ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی دودھ پر کمیشن بنایا ہے۔ ناقص دودھ کے حوالہ سے سپریم کورٹ کافی متحرک ہے لیکن جتنا سپریم کورٹ متحرک ہے اسے باقی اداروں سے وہ تعاون نہیں مل رہا۔
یہ بات درست ہے کہ جب تک حکومتیں اپنے اندر سزا اور جزا کا عمل شفاف نہیں کریں گی گڈ گورننس قائم نہیں ہو سکتی۔ جب تک حکومتیں یہ بات نہیں سمجھیں گی کہ عوام کو انصاف دینا عدالتوں کا نہیں بلکہ حکومت کا کام ہے تب ہی حقیقی گڈ گورننس قائم ہو سکتی ہے ۔ لوگ حکومتوں سے نا امید ہو کر عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ سب سے زیادہ سرکاری ملازم ہی اپنے مسائل کے لیے اپنی حکومت کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ حکومت اپنے ملازمین کی ترقی تبادلے اور سنیارٹی جیسے مسائل بھی شفاف طریقہ سے حل نہیں کر رہی اور ان کاموں کے لیے بھی سرکاری ملازمین اپنی ہی حکومتوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔
یقینا اگر حکومت یہ کام ٹھیک کر لے تو عدالتوں کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا اور سرکار کے ملازمین اپنی سرکار سے مطمئن بھی ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ کو اس حوالے سے بھی توجہ دینی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پولیس کی آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کے حوالہ سے ایک تاریخی فیصلہ دیا۔ اس فیصلہ کے حق اور خلاف دونوں طرف مضبوط دلائل موجود ہیں۔ لیکن اب یہ فیصلہ آچکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو گیا ہے۔ ایس پی سپاہی بن گئے ہیں۔ اور ایس ایس پی ڈی ایس پی بن گئے ہیں۔ لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس فیصلے نے پولیس کے اندر بطور محکمہ بہت سی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ ڈی پروموٹ ہونے والے ان افسران و اہلکاروں کا مورال کس حد تک گر گیا تھا اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔
پولیس کے اندر یہ ایک بحران تھا کہ ڈی پروموٹ ہونے والے ان افسران کا کیا کیا جائے۔ یہ اب جونیئر رینک پر کام نہیں کر سکتے۔ لہذا کیا انھیں گھر بھیج دیا جائے۔ لیکن پنجاب پولیس نے ان کو بددلی اور مایوسی سے بچانے کے لیے قواعد کے مطابق سنیارٹی فکس کر کے پروموشن بورڈ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی سنیارٹی تو کچھ کم ہوئی لیکن 85 فیصد افسرو اہلکار دوبارہ اپنی پہلی پوسٹوں پر آ چکے ہیں ۔ یعنی واپس اسی رینک پر آگئے ہیں۔
یہ بات تو طے ہے کہ جب تک پولیس فورس کا مورال بلند نہیں ہو گا تب تک مجرموں کا مورال بلند رہے گا ۔ ماضی میں اس جانب خاص توجہ نہیں دی گئی ۔ ہمارا واسطہ عموماً عام پولیس اہلکاروں سے ہی پڑتا ہے ۔یہ اہلکار طویل ڈیوٹیوں، گرم سرد موسم ، کم تنخواہوں اور کئی کئی سال تک ترقیاں نہ ملنے کی وجہ سے جس قدر ڈپریشن کا شکار تھے اس کا علم ہر اس شخص کو ہے جس نے ان اہلکاروں سے گفتگو کی ہو ۔ ان حالات میں اگر کوئی اہلکار رشوت نہیں لیتا تو اس کے ولی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
کہیں افسران کی ذاتی چپقلش ان کی ترقی کی راہ میں حائل ہو جاتی تو کہیں اے سی آر یعنی کارکردگی رپورٹ لکھنے والے افسران کی سستی آڑے آجاتی تھی ۔ بھلا ہو آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا جنہوں نے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیا اور واضح طور پر کہہ دیا کہ جو افسر اپنے ماتحت کی بروقت اے سی آر نہیں لکھے گا اس افسر کی بھی اے سی آر روک لی جائے گی۔
گذشتہ دو ماہ میں لاہور پولیس کے مجموعی طور پر 1483 افسران و اہلکاروں کو ترقی ملی ہے جس میں 4 سب انسپکٹر ، 194 اے ایس آئی 1285 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہیں ۔ان ترقیوں سے اہلکاروں کا مورال بلند ہوا ہے۔ ایک ایماندار اہلکار کے لیے اس کی ترقی کتنی اہمیت رکھتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔اس سلسلے میں ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم نے دو ماہ میں پروموشن بورڈ کے چار اجلاسوں کا بروقت انعقاد کیا جو محکمہ پولیس کے اندر ایک ریکارڈ ہے اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کے لیے مشعل راہ۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر لاہور میں دو ماہ میں چار پروموشن بورڈ ہو سکتے ہیں تو باقی اضلاع میں کیوں نہیں۔ باقی صوبوں میں کیوں نہیں۔ یہ درست ہے کہ اس پر رانا ایاز سلیم کوکوئی میڈل نہیں ملے گا۔ لیکن بہر حال پولیس سروس میں یہ اپنی طرزکا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
پولیس کا عوامی تاثر ٹھیک نہیں ہے۔ آجکل پولیس کا امیج ٹھیک کرنے کے لیے ایک مہم بھی چل رہی ہے۔ یہ مہم کس حد تک قابل اثر ہے اس پر تو بحث ہو سکتی ہے لیکن ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ پولیس کو ٹھیک کیے بغیر نظام حکومت ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ پولیس نظام حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پولیس کو کوئی باہر سے ٹھیک نہیں کر سکتا بلکہ پولیس کو پولیس افسران ہی ٹھیک کریں گے۔ اور جب تک پولیس افسران پولیس ٹھیک کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہو نگے پولیس ٹھیک نہیں ہو سکتی۔
ہمیں اگر ملک سے جرائم ختم کر کے امن و امان نافذ کرنا ہے تو پولیس فورس کا مورال بلند کرنے کے لیے ایسے ہی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ جب عام پولیس اہلکار فورس کا مضبوط حوالہ بنے گا تو کسی میں یہ جرات نہیں ہو گی کہ اس کی موجودگی میں جرم کا سوچ بھی سکے ۔ آئی جی پنجاب ، سی سی پی او لاہور اور ایس ایس پی ایڈمن لاہور کے حالیہ اقدامات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کے مسائل حل کر کے انھیں پولیس فورس کا مضبوط حوالہ بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔
بلا شبہ ایسے اقدامات ہی پولیس فورس میں تبدیلی کی علامت بن رہے ہیں ۔ اہلکاروں کے مسائل حل ہوئے تو خود بخود ان کا انداز تخاطب بھی تبدیل ہو گا ۔ ماضی میں جن ناکوں پر شہریوں کو ''اوئے '' کہہ کر روکا جاتا تھا اب انھی ناکوں پر ''سر '' کہہ کر کاغذات طلب کیے جاتے ہیں ۔ یہ اس تبدیلی کا آغاز ہے جو عروج پر پہنچی تو پنجاب پولیس ترقی یافتہ ممالک کی پولیس کو پیچھے چھوڑ جائے گی ۔