رواں سال صوبائی خودمختاری کے بعد ہیلتھ پالیسی نہ بنائی جاسکی

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام،سندھ میڈیکل یونیورسٹی قانونی حیثیت حاصل نہ کرسکی.


Staff Reporter December 30, 2012
ڈائو یونیورسٹی نے سانپ کے کاٹے کی ویکسین تیار کرلی، مزید تحقیقی کام جاری۔ فوٹو: فائل

لاہور: 18ویں ترمیم کے باوجود صوبے میں ہیلتھ پالیسی کا اعلان نہیں کیا جاسکا جبکہ جناح اسپتال، قومی ادارہ اطفال برائے صحت اور قومی ادارہ امراض قلب کے بارے میں بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔

تینوں اسپتال وفاق کے ماتحت رہے اورنہ ہی صوبائی محکمہ صحت کے زیر انتظام ہیں، ان اسپتالوں کی انتظامیہ نے وفاق میں رہنے کیلیے متعلقہ عدالت میں درخواست دائرکردی ہے جس کی وجہ سے تینوں اسپتالوں کے بارے میںکوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا، دوسری جانب صوبائی حکومت نے یکم جون کوسندھ میڈیکل کالج کوسندھ میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق آرڈیننس جاری کیاتھاجس کی مدت 30 اگست کو ختم ہوگئی اس دوران آرڈٖیننس سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی پیش نہیںکیاجاسکا۔

11

جس کی وجہ سے 30اگست سے یونیورسٹی غیرقانونی طورپر چل رہی ہے اور تاحال مذکورہ یونیورسٹی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیںکیا جاسکا،ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پہلی بار ملک میں سانپ کے کاٹے کے علاج کی ویکسین دریافت کرلی اورتشنج، ہیپاٹائٹس سمیت دیگر وائرس سے بچاؤاورعلاج کی ویکسین کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور پہلی بار لائف لیب قائم کردی، ملک میں وفاقی وزارت صحت ختم کیے جانے کے بعد ملک بھر میں ادویات کی مانیٹرنگ کے لیے پہلی بار 12نومبرکوڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کاآرڈیننس بھی جاری کیا گیا جس کے بعد ادویات کی مانیٹرنگ، مینوفیکچرنگ، قیمتوںکا تعین اتھارٹی کی ذمے داری ہے۔