جعلی دواؤں کی تیاری میں پاکستان کا دنیا میں 13واں نمبر

40 فیصدجعلی دوائیں لاہور، کراچی ، ملتان اور راولپنڈی میں تیار ہوتی ہیں، ڈبلیو ایچ او


INP December 30, 2012
ان ادویات میںکینسر سے لیکرنزلہ، زکام کے علاج میں استعمال ہونیوالی دوائیں شامل ہیں۔ فوٹو: فائل

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جعلی دواؤں کی تیاری میں پاکستان کا دنیا بھر میں 13واں نمبر ہے اور پاکستان میں دستیاب ہر قسم کی 30 سے 40فیصد دوائیں جعلی ہیں۔

جعلی دواؤں کی بیشتر مقدار لاہور، کراچی ، ملتان اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں تیار ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایسی دوائیں یا توبالکل جعلی ہوتی ہیں یا پھران کے استعمال سے علاج کے بجائے الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

01

ان میں کینسر سے لے کرنزلہ، زکام جیسے عام امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں شامل ہیں۔ پاکستان کی بیشترآبادی اپنی صحت کے بجٹ کا 77 فیصد سے زائد دواؤں کی خریداری پرخرچ کرتی ہے۔ جعلی دواؤں کی بھرمار کے باعث لوگوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔