عدالتی بیلف کا تھانہ درخشاں پر چھاپہ پولیس افسران طلب

پولیس نے مخبری کے باعث شہری محمد امین کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا


Staff Reporter January 01, 2013
عدالتی بیلف نے مذکورہ پولیس افسران کو تمام ریکارڈ کے ہمراہ سیشن جج کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے. فوٹو: فائل

سیشن جج کے حکم پر عدالتی بیلف عارف حسین نے تھانہ درخشاں پر چھاپہ مارا تھا مخبری کے باعث شہری محمد امین کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

منتقل کرتے وقت مغوی کے بھائی نے موبائل روکنے کی کوشش کی تو پولیس نے اسے بھی حراست میں لے لیا ،بعدازاں اسے چھوڑ دیاتھا، عدالتی بیلف نے ایس ایچ او اور انسپکٹر اسلم کاکھرانی کو آج منگل کو سیشن جج کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا نے احمد کی درخواست پر عدالتی بیلف عارف حسین کو شہری کی بازیابی کیلیے تھانہ درخشاں پر چھاپہ مارنے کا حکم دیا تھا ،سیشن جج کے حکم پر عدالتی عملے نے مذکورہ تھانے میں چھاپہ مارا تھا، اس موقع پر مغوی کے بھائی موسیٰ نے بتایا کہ چھاپے سے چند منٹ قبل مخبری ہوگئی تھی جس پر پولیس انسپکٹر اسلم کاکھرانی پولیس موبائل میں اس کے بھائی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر رہے تھے، اس نے احتجاج کیا اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی ۔

جس پر اسے بھی حراست میں لیا اور موبائل میں بٹھا لیا تھا، تھوڑی دور جاکر اسے مارپیٹ کے بعد چھوڑ دیا تھا، عدالتی بیلف نے مذکورہ پولیس افسران کو تمام ریکارڈ کے ہمراہ سیشن جج کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، قبل ازیں وکیل عارف افضل کی توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 27 دسبر کواس کے بیٹے محمد امین کو تھانہ درخشاں کے پولیس افسر اسلم کاکھرانی نے غیرقانونی حراست میں لیا تھا اور تھانے کے حوالات میں بند کردیا تھا۔

رہائی کیلیے دس لاکھ روپے کا تقاضہ کیا تھا، وکیل کی مداخلت پر پانچ لاکھ روپے طے پائے گئے ہیں، رقم کی عدام ادائیگی پر اسے مقابلے میں ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔