خواتین میں ہارمونز کے مسائل بیماریوں کا سبب بنتے ہیں

طبی عملے کی تربیت سے نارمل زچگیاں ہوسکتی ہیں،ڈاکٹر نصرت شاہ کا سیمینار سے خطاب


Staff Reporter January 01, 2013
ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کا مکمل چیک اپ ہوتاہے تاکہ وہ خود اور ان کے بچے مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں. فوٹو: فائل

خواتین میں ہارمونزکے مسائل مختلف بیماریوںکا سبب بن رہے ہیں۔

بروقت ان بیماریوں کی تشخیص سے حمل اور زچگی کے دوران مائوں اور بچوںکی شرح اموات میں کمی لائی جاسکتی ہے،سول اسپتال کے شعبہ امراض نسواں وارڈ میں ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری سول اسپتال برانچ میں خواتین کی بیماری پر منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈاکٹر فرحان عیسیٰ،ڈاکٹر شفیق الرحمن سمیت دیگر موجود تھے، ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر منٹ میں ایک عورت حمل اور زچگی کے دوران ہلاک ہورہی ہے۔

جبکہ پاکستان میں ان عورتوں کی شرح اموات زیادہ ہے جس پر قابو پانے کے لیے عوام میں اور نئے ڈاکٹروں تک آگاہی پہنچانا بہت ضروری ہے، طبی عملے کو تربیت فراہم کرنے سے نارمل زچگیاں ہوسکتی ہیں، ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کا مکمل چیک اپ ہوتاہے تاکہ وہ خود اور ان کے بچے مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں لیکن افسوس کہ ملک میں فی الحال ایسا قانون موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے پید اہونے والے بچے تھیلیسیمیا سمیت دیگر بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں،سول اسپتال میں زچگی کی غرض سے آنے والی 80 فیصد خواتین مختلف پیچیدگیوں سے ساتھ رپورٹ ہوتی ہیں جس کے باجود ماہر طبی عملہ ان زچگیوں کو کامیاب کرتاہے،خواتین کو چاہیے کہ وہ ابتدائی پیچیدگی میں ہی ماہر ڈاکٹروں سے رابطہ کریں۔