بلدیہ عظمیٰ کے ملازمین کو ابتک نومبر کی تنخواہ نہ مل سکی

ملازمین کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے، انتظامیہ تنخواہوں کی ادائیگی کے بارے میں بھی کچھ بتانے سے قاصر ہے


Staff Reporter/staff Reporter January 01, 2013
صبر کے پیمانے ختم ہوچکے، تنخواہوں کے حصول کیلیے کہاں جائیں ،افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، ملازمین. فوٹو: فائل

DUBAI: بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ ماہ دسمبر ختم ہوجانے کے باوجود اپنے ملازمین کو ماہ نومبر کی تنخواہیں دینے میں ناکام ہوگئی ہے۔

اس صورتحال کے باعث ادارے کے ملازمین کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے تاہم کسی اعلیٰ افسر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے، تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ ماہ نومبر کی تنخواہیں دسمبر میں ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اب تنخواہوں کی ادائیگی میں مزید کتنے دن لگیں گے اس بارے میں بھی کچھ بتانے سے قاصر ہیں جبکہ نومبر کی تنخواہ اور پنشن کب ملے گی ۔

اس بارے میں کوئی بات کرنا بھی فضول معلوم ہوتاہے، تنخواہوں اور پنشن سے محروم افسران وملازمین میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہمارے صبر اور ضبط کے تمام پیمانے ختم ہوچکے ہیں ہم اپنی تنخواہوں کے حصول کے لیے کہاں جائیں کیونکہ بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر محمدحسین سید اپنے دفتر تک آنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں ماہ دسمبر میں وہ صرف دو مرتبہ چند لمحوں کے لیے آئے ہیں وہ اپنے دفتر ہی نہیں آتے ہیں ان کے دفتر نہ آنے کے باعث ان سے ملاقات کرنا کم وبیش ناممکن ہی ہوچکا ہے۔

4

ان کے دفتر نہ آنے سے ادارے میں سنگین نوعیت کے انتظامی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں مگر حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کے دفتر نہ آنے کے معاملے کا کسی سطح پر بھی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر متانت علی خان اپنے دفتر میں بیٹھتے ہیں تاہم ان کا اپنے دفتر آنا یا نہ آنا برابر ہی ہے کیونکہ ایڈمنسٹریٹر نے ان کے اختیارات سلب کررکھے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کی تاریخ میں کبھی اتنا مفلوج ، بے بس اور اختیارات سے محروم میونسپل کمشنر نہیں آیا ہے۔

تاہم متانت علی خان کو ہی اس بات کا اندازہ ہے اگر انھوں نے اپنے اختیارات حاصل یا استعمال کرنے کی معمولی سی بھی کوشش کی تو ان کا ایک لمحے میں تبادلہ کردیا جائے گا اور ان کو صرف اس لیے اس عہدے پر تعنیات کیا گیا ہے ان کا شمار غیر متحرک اور کمزور افسران میں ہوتا ہے۔

لہذا وہ صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے بے اختیار ہی میونسپل کمشنر کے عہدے پر کام کرنے میں مطمیئن ہیں،بلدیہ عظمیٰ اس وقت اپنے وقت کے بدترین انتظامی بحران کا شکار ہے، شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں مگر کوئی آفیسر اپنے دفتر میں نہیں ملتا، شہری اپنے مسائل کی شکایات لے کر بھی کہیں نہیں جاسکتے ہیں، کراچی کے شہریوں اور ادارے کے افسران وملازمین نے کراچی کے منتخب نمائندوں سے سوال کیا ہے کہ وہ کراچی کے سب سے اہم ترین ادارے میں ہونے والی صورتحال پر آخر کیوں خاموش ہیں۔