تنخواہوں کی عدم ادائیگی فائربریگیڈ کے ملازمین نے عدالت سے رجوع کر لیا

نچلی سطح اور اقلیتی برادری کے ملازمین کو کرسمس پر تنخواہ نہ مل سکی،درخواست گزار کا عدالت سے ازخود نوٹس کی اپیل.


Staff Reporter January 01, 2013
غیر قانونی تعمیرات کیخلاف ڈی جی ایس بی سی اے اور دیگر کو نوٹس،جعلی ڈگری پر ترقی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری. فوٹو: فائل

محکمہ فائر بریگیڈ کے ملازمین نے کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے ازخود نوٹس لینے کیلیے درخواست سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرادی۔

، ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے ایک تحریری درخواست سندھ ہائیکورٹ میں جمع کراتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ ان ملازمین میں بڑے پیمانے پر نچلی سطح اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ملازمین ہیں کرسمس جوکہ ان کے لیے عید کے تہوار کے مساوی حیثیت رکھتا ہے انھیں تنخواہیں نہیں مل سکیں،اس سلسلے میں کے ایم سی اور حکومت سندھ نے متعدد بار یقین دہانیاں کرائیں لیکن ملازمین کو اب تک کئی ماہ کی تنخواہ نہیں مل سکی ہے ،ہزاروں ملازمین اوران کے لاکھوں اہل خانہ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم اور ابتر حالات کا شکار ہیں،فاضل چیف جسٹس ہائیکورٹ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے پر ازخود کارروائی کریں کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے ،فاضل جج اس معاملے پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے حکومت سندھ اور کے ایم سی کو ہدایت جاری کریںکہ وہ ان ملازمین کو فوری تنخواہ ادا کرے۔

10

دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کراچی کے علاقے میٹروول IIIبلاک 2 گلزارہجری میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دائر درخواست پر ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ،ڈائریکٹر گلشن اقبال ٹاؤن ،ڈائریکٹر ماسٹر پلان و دیگر کو 24 جنوری کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے درخواست گزار یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندے نے موقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار نے متعدد بار متعلقہ حکام کو نوٹس ارسال کرکے نشاندہی کی کہ مذکورہ مقام پر غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں مگر کارروائی نہیں کی گئی جبکہ مدعاعلیہان غفلت اور اپنے فرائض میں کوتاہی کی ہے ، درخواست گزار کے مطابق تین دکانوں کواندر سے توڑ کر یہاں ایک نجی بینک کی برانچ کھولی جارہی ہے۔

، مدعاعلیہ محمد حنیف نے ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے و دیگر کی ملی بھگت سے کراچی بلڈنگ ٹاؤن اینڈ ریگولیشن کی خلاف ورزی کی ہے،علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اخترکی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے گریڈ 18میں مبینہ غیر قانونی ترقی کے خلاف آئینی درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ،ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اور دیگر مدعاعلیہان کو نوٹس جاری کردیے،درخواست گزارعصمت چغتائی نے مدعا علیہان کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ انکی تقرری سندھ کونسل یونیفائڈ گریڈ کے سب انجینئر کی حیثیت سے بی ایس11میں عمل میں آئی،20دسمبر کوڈائریکٹر لوکل بورڈ نے امتیاز احمد شاہ نامی افسر کا تبادلہ گریڈ 18کی اسامی پر کردیا، امتیاز احمد شاہ کی انجینئر نگ کالج کی ڈگری جعلی ہے،اس ڈگری کی بنیاد پر انھیں گریڈ 18میں ترقی دی گئی اور درخواست گزار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے انھیں ترقی کے مساوی حق سے محروم کیا گیاہے اس لیے عدالت عالیہ امتیاز احمد شاہ کی تعیناتی کے حکم کو کالعدم اور درخواست گزار کو اس اسامی کے لیے موزوں قراردیا جائے۔