عدالتی حکم عدولی پر3پولیس افسران کو گرفتار کرنے کا حکم

افسران کی لاپروائی کے باعث معمولی نوعیت کا مقدمہ نمٹایا نہیں جاسکا.


Staff Reporter January 02, 2013
سرچ آپریشن کے دوران محمود آباد سے گرفتار ہونیوالے 7ملزمان ضمانت پر رہا. فوٹو : فائل

پولیس افسران کی غفلت اور لاپروا ئی کے باعث جوڈیشل پالیسی کے تحت معمولی نوعیت کا مقدمہ نمٹایا نہیں جاسکا۔

عدالت نے پولیس افسران کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے ، تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ غربی صدر الدین بوہیو کو پبلک پراسیکیوٹر سید شمیم احمد نے تحریری شکایت کی کہ ملزم عمیر سمیع کے خلاف اسلحہ ایکٹ کے مقدمے کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر جوڈیشل پالیسی کے تحت31 دسمبر 2012 تک نمٹانا تھا لیکن پولیس افسران کی مسلسل عدالتی حکم عدولی اور عدم حاضری کے باعث مقدمہ تاحال التوا کا شکار ہے، وکیل سرکار نے پولیس افسران کے خلاف عدالتی کارروائی کی استدعا کی تھی۔

فاضل عدالت نے اے وی سی سی کے پولیس انسپکٹر سید معین الدین ، سب انسپکٹر شفیق الرحمٰن ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر عدیل اختر اور سپاہی وسیم احمد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ایس ایچ او کو ان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے اور 15جنوری کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ، استغاثہ کے مطابق 19مارچ2009 کو پولیس نے سرجانی کے علاقے میں چھاپہ مار کراغوا برائے تاوان کے ملزمان عمیر سمیع ، محمد طور خان اور عامر فاروق کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا تھا ، ملزم کے خلاف دہشت گردی کے خصوصی عدالت میں دیگر مقدمات زیر سماعت ہیں ، اسلحہ ایکٹ کا مقدمہ فاضل عدالت میں التوا کا شکار ہے۔

01

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی سید اکرام الرحمن نے محمود آباد کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران اسلحہ ایکٹ کے الزام میں گرفتار محمد یاسر شیخ، کاشف قیوم، محمد شاکر، ندیم احمد، عادل اسحق، عتیق احمد اور غضنفر حسین کو فی کس25ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کردیا ، استغاثہ کے مطابق10 دسمبر2012 کو رینجر نے محمودآباد کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا تھا ،اس دوران مذکورہ افراد کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبانے حبس بے جا کی درخواست پولیس کی تحریری جواب داخل کرنے پر نمٹادی ،منگل کو تھانہ درخشاں کے ایس ایچ او اور پولیس افسر اسلم جھکرانی عدالت میں پیش ہوئے اورتحریری طور پر عدالت کو بتایا کہ مغوی محمد امین کو حراست میں لیا اور نہ ہی وہ انکی حراست میں ہے،واضح رہے کہ درخواست گزار محمد احمد نے مغوی کی بازیابی کیلیے حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی۔