شاہراہوں اور گلیوں میں رکاوٹوں کیخلاف درخواست پر نوٹس

ہائیکورٹ نے ہوم سیکریٹری اور آئی جی سندھ سے 24جنوری کو جواب طلب کرلیا


Staff Reporter January 03, 2013
ہائیکورٹ نے ہوم سیکریٹری اور آئی جی سندھ سے 24جنوری کو جواب طلب کرلیا۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہر کراچی سمیت سندھ کے بیشتر علاقوں کی گلیوں کو بیریئرز لگاکر بند کرنے کیخلاف دائر درخواست پر ہوم سیکریٹری اور آئی جی سندھ پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24جنوری کو جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار آغا عطا اللہ شاہ نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ صوبے بھر میں مختلف مقامات پر غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اورگلیوں اور سڑکوں کو بیریئرز لگاکر بند کردیا گیا ہے اور ان گلیوں کے رہائشیوں نے کسی مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر گلیاں بند کردی ہیںجس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

10

ان بیریئرز کے لگانے کی وجہ سے ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس بھی نہیں گزرسکتی ہے، درخواست گزار کے مطابق جون 2012 میں رینجرز اور پولیس نے کراچی کے متعدد علاقوں کا مشترکہ سروے کیاتاکہ ان رکاٹوں کو دور کرنے کیلیے حکمت عملی تیار کی جاسکے تاہم اس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوسکا، صوبے بھر میں جن گلیوں اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ان میں متعلقہ علاقوں کے ایس ایچ اوز اور پولیس کی ملی بھگت بھی شامل ہے،مدعاعلیہان شہریوں کے آزادانہ نقل وحرکت کے آئینی حق کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔