مجوزہ صوبائی ہائرایجوکیشن کمیشن کی تشکیل وزیر تعلیم کونوٹس

حکومت سندھ کے اقدام کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں،درخواست گزار.


Staff Reporter January 04, 2013
عدالت نے وزیر تعلیم سمیت دیگر مدعا علیہان کو 23 جنوری کیلیے نوٹس جاری کردیے. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے مجوزہ صوبائی ہائرایجوکیشن کی تشکیل کے خلاف آئینی درخواست پر وزیر تعلیم سمیت دیگر مدعا علیہان کو 23جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیے۔

درخواست پاک چائنا فائونڈیشن کے کوآرڈینیٹر شیخ محمد ولی اللہ عالم نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے عمل میں آیا تھا جس کا انتظام 18رکنی کمیشن ایک ایسے شخص کی سربراہی میں چلاتاہے جس کا عہدہ وفاقی وزیر کے مساوی ہوتا ہے اور وزیر اعظم پاکستان اس کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہوتا ہے ،کمیشن کی تشکیل متوازن اور وفاقی ڈھانچے کے مطابق ہوتی ہے جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ سیکریٹری تعلیم ، سیکریٹری سائنس و ٹیکنالوجی، ممتاز ماہرین تعلیم اوراسکالرز بھی شامل ہوتے ہیں، تاہم درخواست گزارکے مطابق اس کے علم میں آیا ہے کہ حکومت سندھ اچانک اعلیٰ تعلیم کیلیے ہائرایجوکیشن کمیشن تشکیل دینے کا جائزہ لے رہی ہے جس کا نام صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ہوگا،اس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کو صوبوں کے ماتحت کرنے کے مترادف ہوگا جس کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں، درخواست میں مزید کہاگیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن وفاق کے بجائے صوبوں کو نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس کا کثیرالجہتی تعلق قومی پالیسی و منصوبہ بندی،قومی صنعتی پیداوار، ٹیکنیکل ریسرچ اورسائنسی علوم کی ترویج اورایجادات سے ہے۔

03

درخواست میں مزیدکہاگیا ہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی قراردے چکی ہے کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن ایک وفاقی ادارہ ہے اور اسے آئین میں وفاقی فہرست میں رکھاگیا ہے ،اس لیے حکومت سندھ کی جانب سے ایساکوئی بھی اقدام قانون اور سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوںکی خلاف ورزی ہوگا اورکالعدم کیے جانے کے قابل ہے جب تک کہ وفاقی حکومت اس بارے میں نئی قانون سازی نہ کرے ۔

درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ، وزارت تعلیم اورہائیر ایجوکیشن کمیشن کوفریق بنایا گیا ہے اورعدالت عالیہ سے استدعاکی گئی ہے کہ قراردیاجائے کہ حکومت سندھ کی جانب سے صوبائی ہائیر ایجوکیشن کے لیے کیا جانے والا کوئی بھی اقدام غیرقانونی اور سپریم کورٹ کے فیصلوںکے خلاف ہوگا اور مدعاعلیہان کی جانب سے کمیشن کی تشکیل کے لیے کی جانیوالی کسی بھی کوشش کو معطل کردیاجائے۔