تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف محدود کیے جانے کا اعتراف

سابق چیئرمین ایف بی آرنے تمام تنخواہ داروںکوریلیف کا دعویٰ کیاتھا


Irshad Ansari July 29, 2012
سابق چیئرمین ایف بی آرنے تمام تنخواہ داروں کو ریلیف کا دعویٰ کیاتھا۔ فائل فوٹو

WASHINGTON: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے اعتراف کیا ہے کہ رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں کی مد میں آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس میں دیے جانے والے ریلیف میں بھی بتدریج کمی کی گئی ہے اور بجٹ میں تنخواہ کی مد میں صرف کم آمدنی رکھنے والے ملازمین کو زیادہ ریلیف دیاگیاہے۔

''ایکسپریس'' کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے دستیاب دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین سے ٹیکس وصولی کی سلیب 16 سے کم کرکے 6 کردی گئی ہیں اور قابل ٹیکس آمدنی کی حد ساڑھے 3لاکھ سالانہ سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے سالانہ کردی گئی ہے جس کے تحت 4 لاکھ روپے سالانہ تک آمدنی رکھنے والے ملازمین پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا

لیکن دوسری ٹیکس سلیب کے تحت 4 لاکھ روپے سے ساڑھے 7 لاکھ روپے سالانہ تک آمدنی رکھنے والے ملازمین سے 4 لاکھ سے زائد جو آمدنی ہوگی اس پر 5 فیصد ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ دستاویز کے مطابق مالی سال 2012-13کے وفاقی بجٹ میں متعارف کرائی گئی 6سلیب میں سے پہلی 3 سلیبز میں ٹیکس دہندگان کو 6 سلیب ریٹ کا فائدہ منتقل کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد والی 3 سلیبز میں شامل ٹیکس دہندگان کو پہلی ٹیکس سلیب کا فائدہ منتقل نہیں کیا گیا اور ان کے لیے ریلیف کو کم کیا گیا ہے

کیونکہ انکی تنخواہ کی مد میں آمدنی زیادہ ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ چھٹی ٹیکس سلیب میں آنے والے ٹیکس دہندگان پر 4 لاکھ سے زائد کی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس وصول کیا جائیگا اور اس کے ساتھ 2 لاکھ 25 ہزار کی پچھلی سلیب کی رقم کے بجائے 4 لاکھ 20 ہزار روپے Lump sum بھی وصول کیے جائیں گے، اسی طرح پانچویں سلیب میں آنے والے ٹیکس دہندگان پر 4 لاکھ کی رقم سے زائد آمدنی پر 17.5 فیصد ٹیکس کے ساتھ ایک لاکھ 67 ہزار 500 کے بجائے ایک لاکھ 75 ہزار روپے Lump sumبھی وصول کیے جائیں گے

جبکہ چوتھی ٹیکس سلیب میں شامل ٹیکس دہندگان سے 15 فیصد انکم ٹیکس کے ساتھ 92 ہزار 500روپے کے بجائے 95 ہزار روپے Lump sum بھی وصول کیے جائیں گے جبکہ بجٹ کے موقع پر اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر ممتاز حیدر رضوی نے دعوٰی کیا تھا کہ بجٹ میں تمام تنخواہ دار ٹیکس دہندگان کو ریلیف دیا گیا ہے اور اس وقت تنخواہ دار ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس کی ریلیف کا باقاعدہ چارٹ بھی جاری کیا گیا تھا

لیکن اب جو دستاویز جاری کی گئی ہے اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ٹیکس ریلیف میں کمی کی گئی ہے تاہم کم تنخواہ دار کو سب سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے۔