ڈاؤ یونیورسٹی میں تھیلیسیمیا سینٹر قائم گورنر کا ایک کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان

گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت صوبے میں اس مرض کے حوالے قانون سازی پر بھی غور کررہی ہے۔


Staff Reporter January 05, 2013
ڈائو نیورسٹی کے تحت قائم تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے افتتاح کے موقع پر گورنر سندھ اور دیگر دعا کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سا ئنسز نے پہلی بار اوجھا کیمپس میں تھیلیسیمیا کیئر سینٹر قائم کردیا۔

تھیلیسیمیاکیئر سینٹرکا افتتاح جمعہ کوگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے گورنر ہائوس میں کیا ، اس حوالے سے گورنرہاؤس میں تقریب منعقد کی گئی جس میںسینیٹر عبدالحسیب خان ، ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید خان ، پرووائس چانسلر پروفیسر عمر فاروق ، رجسٹرار ڈاکٹر زینت ایوب، سردار یاسین ملک ، پروفیسر ڈاکٹر رعنا قمر مسعود ، ڈاکٹر رفیق خانانی، پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ ، ڈاکٹر طاہر شمسی سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ڈائو یونیورسٹی تھیلیسیمیاکیئر سینٹرکیلیے ایک کروڑروپے کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا ایک ایسی موروثی بیماری جوکہ پاکستان سمیت دنیاکے 60سے زائد ممالک میں پائی جاتی ہے جبکہ 250ملین افراد اس بیماری کا شکار ہیں، انھوں نے مخیر حضرات سے درخواست کرتے ہوئے کہ وہ تھیلیسیمیا کیئر سینٹر کے قیام کے لیے مالی تعاون کریں تاکہ تھیلیسیمیا جسے موروثی بیماری میں مبتلہ افراد کو اس بیماری سے چھٹکارا دلایا جاسکے۔



گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت صوبے میں اس مرض کے حوالے قانون سازی پر بھی غور کررہی ہے ،انھوں نے کہا کہ اندرون سندھ میں ایسے تھیلیسیمیا کیئر سینٹر قائم کیے جائیں گے،پروفیسر مسعود حمید خان نے ڈائوانسٹی ٹیوٹ آف ہیماٹولوجی کا نام ڈاکڑ عشرت العباد خان انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کرنے کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر زینب مختار نے کہا کہ تھیلیسیمیا خون کی ایک ایسی بیماری ہے جو نسل در نسل بچوں میں منتقل ہوتی ہے، یہ پاکستان کی سب سے عام موروثی بیماری ہے ، ایک اندازے کے مطابق سندھ میں 80فیصد افراد کو اس بیماری کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں،انھوں نے مزید بتایا کہ دو ایسے افراد جنہیں تھیلیسیمیا مائینر ہو آپس میں شادی نہ کریں ،اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر اکبر آغا نے بھی اپنے خیالات کا اظہا ر کیا۔