شہری پر تشدد اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم

آئی جی سندھ کو ہیڈ بیلف کی جانب سےمغوی کوتھانےسےبازیاب کرانےکےباوجودغیرقانونی حراست کےواقعےکی تحقیقات کرانیکی ہدایت.


Staff Reporter January 05, 2013
یونس کی گرفتاری کاجواز پیش نہ کیاجاسکا،اس لیے رہائی کے احکامات جاری کیے ،پولیس کو اچھی طرح علم ہونے کے باوجود قانون سے تصادم کی راہ اپنائی گئی،عدالت فوٹو: فائل

سیشن جج احمد صبا نے ایس پی اور انسپکٹر سمیت 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور سرعام تشدد کرنے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

فاضل جج نے آئی جی سندھ کو بھی شہری کو جعلی مقدمے میں ملوث کرنے اور عدالتی اہلکار کی جانب سے مغوی کو بازیاب کرانے کے باوجود دوبارہ چھیننے کے واقعے کی محکمہ جاتی تحقیقات کرانے کی بھی ہدایت کی ہے ،فاضل عدالت نے فیصلے کی نقل سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ یہ معاملہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے علم میں لایا جائے اور وہ آئی جی سندھ سے کسی بھی اجلاس میں اس بارے میں بات کرسکیں۔

گذشتہ سال جون میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ یونس نامی شہری کو پولیس نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے ،اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے 28جون کو ہیڈ بیلف مدثر کو ہدایت کی کہ وہ گذری پولیس اسٹیشن کی پہلی منزل پر واقع کرائم مائنٹرنگ ڈویژن سیل ( سی ایم ڈی سی) پر چھا پہ ماریں اور وہاں غیر قانونی حراست میں موجود شہری یونس کو بازیاب کرائیں کیونکہ پولیس اس کی حراست کے متعلق کوئی ایف آئی آر یا کوئی اور مواد عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تاہم پولیس اہلکاروں نے ہیڈ بیلف کے ہاتھوں سے یونس کو دوبارہ چھین کرمیڈیا کی موجودگی میں اس پر پھر وحشیانہ تشدد کیا، عدالت کے فیصلے کے مطابق اس طرح سرعام تشدد اور اسے میڈیا پر دکھائے جانے سے معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا، اس لیے پولیس اہلکار دہشت گردی کے مرتکب ہوئے ، پولیس نے موقف اختیارکیا تھاکہ یونس نامی یہ شہری بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن کی حدود سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور یہاں صرف تفتیش کے لیے لایا گیا ہے۔



عدالت نے اپنے فیصلے میں مزیدکہا کہ چونکہ پولیس گرفتاری کاکوئی جواز پیش نہیں کرسکی تھی اس لیے اس کی رہائی کے احکامات جاری کیے گئے اور ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کو اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا، جوڈیشل مجسٹریٹ حاتم عزیز سولنگی نے انکوائری کر کے اپنی رپورٹ میں لکھاکہ یونس کو نہ صرف غیرقانونی حراست میںرکھا گیابلکہ اس پر شدید تشدد بھی کیاگیا، اسے غیرانسانی ماحول میں رکھاگیا،ان تمام مراحل میں گزری اور بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے سی ایم ڈی سی کے افسران کی مدد کی اور غیر قانونی حراست میں رکھے جانے والے شہری کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیاتاکہ پولیس افسران کی جان چھڑائی جاسکے۔

عدالت کے ریکارڈ پر آنیوالے مواد کے مطابق یونس کی حراست غیر قانونی تھی اس پر انتہائی تشدد کیا گیا ، عدالت نے اپنے فیصلے میں قراردیاکہ پولیس کو اچھی طرح علم ہونے کے باوجود انھوںنے قانون سے تصادم کی راہ اپنائی ،اس لیے ایس ایچ او گذری کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس وقت کے ایس پی کلفٹن حق نواز پھلپھوٹو جن کی نگرانی میں سی ایم ڈی سی کام کررہا تھا ان سمیت اے ایس آئی غلام سرور، بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر اختر عزیز اورمحمد ظہور ، اس وقت کے ایس ایچ او بلوچ کالونی پولیس اسٹیشن انسپکٹرعرفان اور سب انسپکٹر راجہ خالد محمودکے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ، فاضل عدالت نے آبزرو کیاکہ پولیس اہلکاروں کا اقدام سرکاری ملازمین کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی کو دانستہ زخمی کرنے کی دفعہ 166,220,345,346,کے ساتھ ساتھ حدود آرڈیننس کی دفعہ 337-H(II)اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 34کے زمرے میں آتا ہے ۔