مہران ہائی وے کی تعمیر ٹینڈرنگ کا عمل پیر تک منسوخ

بلدیہ عظمیٰ نے5 من پسند کمپنیوں کو ٹھیکہ دلانے کا منصوبہ بنایا تھا، ناکامی کے بعد منسوخی کا حکمنامہ جاری کردیا گیا


Staff Reporter January 05, 2013
منصوبے کی فنڈنگ جاپانی حکومت کریگی، ٹھیکیداروں کے گروپ نے جاپانی سفارتخانے اور جائیکا سے رابطہ کا فیصلہ کرلیا. فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ نے مہران ہائی وے کی تعمیر کا ٹھیکہ اپنے من پسند ٹھکیداروں کو دینے میں ناکامی کے بعد ٹینڈرنگ کا عمل پیر تک کے لیے منسوخ کردیا ہے۔

یہ منصوبہ جاپانی حکومت کی فنڈنگ پر تیار کیا جانا تھا، ٹھیکیداروں کے ایک گروپ نے اس سلسلے میں جاپانی سفارتخانے اور جائیکا سے رابطہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ جمعے کو بلدیہ عظمیٰ کے تحت لانڈھی صنعتی زون کے علاقے میں مہران ہائی وے کا منصوبے کا پی سی ون تیار کیا گیا تھا، اس منصوبے پر آنے والی 60 کروڑ روپے کی لاگت حکومت جاپان نے جائیکا کے ذریعے ادا کرنی تھی۔

ہائی وے کی تمام تر منصوبہ سازی کے عمل میں جاپان حکومت جاپانی سفارتخانے اور جائیکا کے ذریعے براہ راست شریک رہی، اگرچہ اس منصوبے کی فنڈنگ جاپانی حکومت نے کرنی ہے تاہم اس منصوبے کی ٹینڈرنگ اور تعمیراتی کام کرانا بلدیہ عظمیٰ کی ذمے داری طے ہوئی تھی، منصوبے کے ٹینڈر جمعے 4جنوری کو سوک سینٹر میں کھلنے تھے، اس منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم دیا گیا تھا جس کے تحت منصوبے کا تعمیراتی کام بھی پانچ کمپنیوں کو ایوارڈ کیا جانا تھا۔

اس سلسلے میں 31کمپنیوں کو پری کوالیفائی کیا گیا جن میں سے29 کمپنیوں نے ٹینڈر دستاویزات حاصل کیے تاہم بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ نے5من پسند کمپنیوں کو منصوبے کا ٹھیکہ دلانے کا منصوبہ بنایا اور باقی کمپنیوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ اس منصوبے کی ٹینڈرنگ کے عمل میں شریک نہ ہوں ان کو مذید دیگر منصوبوں میں کام دلادیا جائے گا، ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کی اس دھمکی اور پیشکش کو بعض ٹھیکیداروں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ وہ ہر صورت اور ہر قیمت پر 4جنوری کو ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لیں گے۔



اس سلسلے میں رات گئے تک بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ ٹھیکیداروں کی ایک ایسوسی ایشن کے توسط سے ٹھیکیداروں پر زور دیتی رہی کہ وہ ٹینڈرنگ کے عمل سے دور رہیں تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے میں ناکامی کے بعد جمعے کو اچانک صبح کے وقت ٹینڈرنگ کا عمل پیر تک منسوخ کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا گیا، ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ بلدیہ عظمیٰ ٹینڈرنگ کے عمل میں منسوخی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ کنسلٹنٹ کی نااہلی کے باعث بعض تیکنیکی مسائل پیدا ہوگئے ہیں جس کے باعث پیر تک کے لیے ٹینڈر منسوخ کیا گیا ہے کہ تاہم اصل معاملہ یہ ہے کہ من پسند ٹھکیداروں کو نوازنے میں ناکامی کے بعد ٹینڈرنگ منسوخ کی گئی ہے۔

ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لینے کے خواہشمند ٹھکیداروں نے پاکستان میں قائم جاپانی سفارتخانے کے حکام ، جائیکا کے عہدیداروں ، نیب اور اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں یہ ٹینڈر کرائیں کیونکہ یہ بہت حساس نوعیت کا منصوبہ ہے جس پر پاکستان کا ایک دوست ملک جاپان فنڈنگ کررہا ہے اگر اس منصوبے میں نقائص اور بے ضابطگیاں سامنے آئیں گی تو عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچے گا اور پاکستان اور جاپان کے تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں جاپان حکومت اس منصوبے پر فنڈنگ بھی روک سکتی ہے۔