فلورملز کو متواتر گندم کی فراہمی جا ری ہےسیکریٹری محکمہ خوراک

کسی بھی مل نےمصنوعی بحران کےنام پرآٹےکی مقررہ قیمت 32 روپےفی کلوسےزائدوصول کی تو ان کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی.


Staff Reporter January 05, 2013
کسی بھی مل نےمصنوعی بحران کےنام پرآٹےکی مقررہ قیمت 32 روپےفی کلوسےزائدوصول کی تو ان کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی. فوٹو: فائل

لاہور: محکمہ خوراک سندھ کے سیکریٹری آفتاب میمن نے فلور ملز مالکان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں فلور ملز کو متواتر گندم کی فراہمی کی جا ری ہے اس لیے آٹے کے بحران کا کوئی خدشہ نہیں۔

اگر کسی بھی مل نے مصنوعی بحران کے نام پر آٹے کی مقررہ قیمت 32 روپے فی کلو سے زائد وصول کی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ اس وقت سندھ میں 73 لاکھ گندم کی بوریوں کا اسٹاک موجود ہے جو کہ آئندہ مارچ تک کافی ہوگی، اس اسٹاک کو اگر مارچ تک چلایا گیا تو ہم بینکوں کا قرض بھی اتار سکیں گے اور نیا قرض حاصل کرنے کے اہل ہونگے۔

انھوں نے کہا کہ گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد کرانے کے لیے فلور ملز والے بلیک میل کر رہے ہیں لیکن ان کے بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، گزشتہ ماہ دسمبر میں کراچی کی فلور ملز کو5لاکھ 86 ہزار بوریاں گندم فراہم کی گئی تھی، معاہدے کے مطابق فلور ملز کو 32 روپے فی کلو آٹا فروخت کرنا تھا لیکن ان ملز مالکان نے 36 سے 37 روپے فی کلو کی قیمت پر آٹا فروخت کیا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ فلور ملوں کو حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گندم سے سوجی اور میدہ نکالنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن یہ من مانی کرتے ہیں،اس موقع پر فلور ملز ایسو سی ایشن کے سابق صدر ممتاز شیخ نے کہا کہ سندھ میں گندم کی کوئی کمی نہیں اور فلور ملز کو گندم مل رہی ہے۔