نیلے درو دیوار والا دلکش شہر

ویب ڈیسک  اتوار 12 فروری 2017
مراکش کے اس شہر کو 1471 میں اسپین سے بے دخل کیے جانے والے یہودیوں نے آباد کیا تھا۔

مراکش کے اس شہر کو 1471 میں اسپین سے بے دخل کیے جانے والے یہودیوں نے آباد کیا تھا۔

مراکش: پہاڑی کے دامن میں واقع شفشاؤن نامی یہ چھوٹا سا خوبصورت شہر جدید دنیا سے بہت پیچھے ہے لیکن مراکش آنے والے سیاحوں کی دلچسپی کا ایک اہم مرکز بھی ہے کیونکہ یہاں کی تمام عمارتوں پر نیلا رنگ کیا گیا ہے۔

اس کا ایک اور نام ’’شاؤن‘‘ بھی ہے البتہ یہ ’’مراکش کے نیلے شہر‘‘ کے نام سے زیادہ مشہور ہے جسے 1471 میں اسپین سے بے دخل کیے جانے والے یہودیوں نے آباد کیا تھا۔ یہاں خاص طور پر ایک قلعہ بھی تعمیر کیا گیا تھا جس کا مقصد شمالی مراکش کو پرتگالی اور ہسپانوی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنا تھا۔

اس شہر کی ہر عمارت اور در و دیوار پر نیلا رنگ دراصل یہودی رواج کی یادگار ہے جو صدیوں پہلے یہاں سے چلے گئے تھے لیکن بعد میں آنے والوں نے یہ سلسلہ برقرار رکھا اور آج تک اس شہر میں بننے والے ہر گھر، ہر دکان، ہر مکان، یہاں تک کہ گملوں اور کھمبوں تک پر نیلا رنگ ہی کیا جاتا ہے۔

2011 کی خانہ جنگی سے پہلے تک یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے تھے اور مراکش کی حکومت اپنے ہاں سیاحت کو فروغ دینے کےلیے اس شہر کو بطورِ خاص شامل رکھا کرتی تھی لیکن خراب حالات کی وجہ سے یہاں سیر و سیاحت تباہ ہوگئی۔

البتہ حالات قدرے سنبھل جانے کے بعد سے اب مختلف ملکوں کے سیاح ایک بار پھر یہاں آنے لگے ہیں اور اس چھوٹے سے شہر کی خوشگوار آب و ہوا اور عمارتوں کی نیلی رنگت سے محظوظ ہونے لگے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔