توانائی بحران پرتنازعای سی سی میں گیس حکام طلب

پانی وبجلی اورپٹرولیم کی وزارتوں کے ایک دوسرے پرناقص کارکردگی کے الزامات.


Irshad Ansari January 06, 2013
حقیقت معلوم کرنے کیلیے آئندہ اجلاس میں گیس کمپنیوں کے ایم ڈیزکوبلایا جائیگا،ذرائع فوٹو: فائل

ملک میں توانائی بحران کے حوالے سے وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔

توانائی بحران کے بارے میں اصل صورتحال معلوم کرنے کے لیے گیس کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کے آئندہ اجلاس میں بلائے جانے کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ای سی سی کے گزشتہ اجلاس میں وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے درمیان شدید بحث اور تلخ کلامی ہوئی اور دونوں وزارتیں ایک دوسرے پر ناقص کارکردگی کا الزام عائد کرتی رہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے حکام کا موقف تھا کہ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں و ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے جس کی وجہ سے وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل اور اسکے ماتحت ادارے و ڈپارٹمنٹ تعاون نہیں کرتے اور نہ ہی گیس کی تقسیم درست طور پر ہورہی ہے جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار مطلوبہ صلاحیت کے مطابق نہیں ہوپارہی۔



ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران مشیر پٹرولیم نے وزارت پانی و بجلی کے حکام کی طرف سے عائد کردہ الزامات کا بھرپوردفاع کیا اور موقف اختیار کیا کہ درحقیقت وزارت پانی و بجلی کی اپنی کارکردگی ناقص ہے جس پر پردہ ڈالنے کیلیے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل پر الزام عائد کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی کے اجلاس میں دونوں وزارتوں کے حکام کے درمیان شدید اور تلخ بحث مباحثہ کے بعد یہ طے کیا گیا ہے کہ سوئی سدرن گیس اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹرز کو ای سی سی کے اجلاس میں بلایا جائیگا اور ان سے صورتحال معلوم کی جائے گی کہ ملک میں گیس کی پیداوار کتنی ہے اور کہاں کہاں اس کام استعمال ہورہا ہے اور گیس کے کتنے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور نئے ذخائر سے حاصل ہونے والی گیس کن شعبوں کو دی جارہی ہے۔