جامعہ کراچی میں غیرقانونی بھرتیوں کیخلاف درخواست دائر

سلیکشن بورڑ کی منظوری کے بغیر گریڈ 17سے 18میں ترقیاں دی گئیں،درخواست گزار.


Staff Reporter January 06, 2013
سلیکشن بورڑ کی منظوری کے بغیر گریڈ 17سے 18میں ترقیاں دی گئیں،درخواست گزار. فوٹو: فائل

GILGIT: جامعہ کراچی میں غیر قانونی بھرتیوں ، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور غیرقانونی ترقیوں کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دائر کردی گئی۔

درخواست گزار زاہد مقصود نے دائر درخواست میں چانسلر کراچی یونیورسٹی، وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی، سیکریٹری تعلیم اور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یونیورسٹی آف کراچی نے مجریہ ایکٹ 1972ء کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے 7 سو افراد کو بھرتی کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھرتیوں پر مکمل پابندی ہے، اس کے باوجودجامعہ کراچی نے گریڈ 1سے 16اور گریڈ17سے20میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا۔

 

03

جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا اور 18ایسے پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز بھرتی کیے جنہیں سلیکشن بورڑ نے نااہل قرار دیا تھا جبکہ ڈیپوٹیشن پر بھی منظور نظر لوگوں کو لایا گیا ہے جو کہ آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے ملازمین جوکہ گریڈ 1سے 14میں تھے انہیں سلیکشن بورڑ کی منظوری کے بغیر نوازتے ہوئے گریڈ 17سے 18میں ترقیاں دی گئیں،یہ تمام عمل آئین کے آرٹیکل 2,5,4,9,10A,25,27,38اور 105کی خلاف ورزی ہے اور اس سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے،عدالت جامعہ کراچی میں جاری اس تمام صورتحال کا سختی سے نوٹس لے۔