بلدیہ ٹائون آپریشن کے دوران پولیس موبائل پر دستی بم حملہ اہلکار زخمی 7ملزمان گرفتار

مواچھ گوٹھ میں گینگ وار ملزمان کی جانب سے کچھی رابطہ کمیٹی کے کارکن کے گھر پر دستی بم سے حملے کے بعد کارروائی کی گئی.


Staff Reporter January 06, 2013
حراست میں لیے جانے والوں کے قبضے سے3 دستی بم اور4 پستول برآمد ، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ، پولیس۔ فوٹو: فائل

مواچھ گوٹھ میں لیاری گینگ وار کے ملزمان نے مخالف گروپ کے کارندے کے گھر پر دستی بم سے حملہ کر دیا۔

دستی بم پھٹنے سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا ، تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ، پولیس نے مواچھ گوٹھ میں آپریشن کر کے گینگ وار کے2 اہم ملزمان سمیت7 افراد کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے دستی بم اور اسلحہ برآمدکرنے کا دعویٰ کیا ہے ، آپریشن کے دوران ملزمان نے پولیس موبائل پر بھی ایک دستی بم پھینکا جس کے پھٹنے سے پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق ماڑی پور تھانے کی حدود مواچھ گوٹھ میں لیاری گینگ وار کے ملزمان نے کچھی رابطہ کمیٹی کے کارکن ولی بھٹی کے گھر پر دستی بم سے حملہ کردیا، دستی بم ولی بھٹی کے گھر کے دروازے کے قریب زور دار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،واقعے کی اطلاع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور بم ڈسپوزل کے عملے کو طلب کر لیا ، پولیس کے مطابق دیسی ساختہ دستی بم تھا جس کے پھٹنے سے گھر کی دیوار پر دستی بم کے ٹکڑے لگنے سے نشانات پڑگئے۔

06

بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے نے ولی بھٹی کے گھر قریب سرچنگ کر کے علاقے کو کلیئر قرار دیا ، واقعے کے کچھ دیر بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے مواچھ گوٹھ کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی شروع کردی ،اس دوران نامعلوم ملزمان نے پولیس موبائل پر بھی ایک دستی بم پھینکا جس کے پھٹنے سے موبائل کے قریب کھڑا سب انسپکٹر شفیق تنولی زخمی ہوگیا ، جو طبی امداد کے لیے خود سول اسپتال پہنچ گیا ، شفیق تنولی کے چہرے اور سینے پر دستی بم کے ٹکڑے لگنے سے زخم آئے تھے جسے ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ، پولیس اور رینجرز نے سرچ آپریشن کے دوران عید محمد عرف پپو ، حسن گل عرف بابا ، کاشف اور عمران سمیت7 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے تھانے منتقل کردیا۔

پولیس کے مطابق حراست میں لیے جانے والوں کے قبضے سے3 دستی بم اور4 پستولیں برآمد کی گئی ہیں ، پولیس نے ولی بھٹی کے گھر پر اور پولیس موبائل پر دستی بم کے حملے کی ایکسپلوزو ایکٹ کے تحت دو الگ الگ ایف آئی آر جبکہ پکڑے جانے والے ملزمان کے خلاف پولیس مقابلے اور اسلحہ و دستی بم برآمد کرنے کے الگ الگ مقدمات درج کر لیے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ماڑی پور تھانے میں سب انسپکٹر افتخار ایس ایچ او ہے تاہم زخمی ہونے والا سب انسپکٹر شفیق تنولی ایس ایچ او نہ ہونے کے باوجود ایس ایچ او کے اختیارات استعمال کرتا ہے جبکہ اس نے پولیس ہیڈ آفس سے اپنی شیٹ غائب کرا دی تاکہ شولڈر پرموشن کی وجہ سے دیگر پولیس افسران کی طرح اسے بھی کانسٹیبل نہ بنا دیا جائے ، قانونی طور پر شفیق تنولی کانسٹیبل ہے تاہم افسران بالا اور حساس اداروں کی مبینہ سرپرستی کے باعث وہ اپنے آپ کو سب انسپکٹر نہ صرف کھلاتا ہے بلکہ سب انسپکٹر کے بیج بھی لگاتا ہے اور ماڑی پور تھانے میں ایس ایچ او کی سیٹ پر بیٹھتا ہے ۔