شیرخوار بچے کے اغوا میں ملوث ملزمہ سمیت 4ملزمان گرفتار
سردی کے باعث بچے کی طبیعت بگڑنے پر ملزمان نے بچے کو کسی اسپتال میں چھوڑ کر اہلخانہ سے تاوان کی وصولی کا منصوبہ بنایا.
مرکزی ملزم سکندر الدین۔ فوٹو: ایکسپریس
شیر خوار بچے کے اغوا میں ملوث ملزمان اس کے اپنے ہی رشتہ دار نکلے۔
اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس اور سی پی ایل سی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اغوا میں ملوث ملزمہ سمیت4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، تفصیلات کے مطابق اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس اور سی پی ایل سی نے خفیہ اطلاع پر لیاقت آباد کے علاقے سندھی ہوٹل بلوچ پاڑا میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شیر خوار بچے سمیر ولد فاروق کے اغوا میں ملوث ملزمہ مریم سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
گرفتار ملزمان میں2 ماموں سکندر الدین ، وسیم الدین اور کزن عمیر شامل ہیں، اینٹی وائلنٹ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے یکم جنوری کو لیاقت آباد سے اپنے ہی رشتے دار اور پڑوسیوں کے شیر خوار بچے کو اغوا کیا تھا اور بچے کی رہائی کیلیے50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا، انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان بچے کی رہائی کیلیے اہل خانہ سے3 روز تک تاوان کی رقم طے کرتے رہے لیکن رقم طے نہیں ہو سکی، اسی دوران انتہائی سرد موسم کی وجہ سے شیر خوار بچے کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگی اور بچے کی طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی، جس پر ملزمان نے منصوبہ بنایا کہ شیر خوار بچے کو کسی اسپتال میں داخل کرانے کے بعد چھوڑ کر اہل خانہ سے تاوان کی رقم وصول کر لیں گے۔

ملزمان منصوبے پر عمل کرتے ہوئے 4 اور5 جنوری کو مغوی بچے سمیر کو پہلے واٹر پمپ چورنگی کے قریب نجی اسپتال لے گئے لیکن اسپتال انتظامیہ نے بچے کو داخل کرنے سے منع کردیا، جس پر ملزمان گلشن اقبال میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے قریب واقع اسپتال لے گئے اور بچے کو نیبولائز لگوانے کے بہانے اسپتال میں داخل کروا کے فرار ہو گئے، جس پر اسپتال انتظامیہ نے 2 گھنٹے تک بچے کو لانے والی خواتین کی تلاش کے بعد عزیز بھٹی پولیس کو اطلاع کردی کہ 2 نقاب پوش خواتین ایک شیر خوار بچے کو چھوڑ کر فرار ہو گئی ہیں، جس پر مقامی پولیس نے اسپتال پہنچ کر لاوارث مغوی بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل اور سی پی ایل سی کو اطلاع کردی۔
جس کے بعد پولیس نے مغوی بچے کو والد فاروق ولد مجید کے حوالے کردیا اور بلوچ پاڑا سندھی ہوٹل لیاقت آباد میں کارروائی کرتے ہوئے اغوا میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا، انھوں نے بتایا کہ مغوی شیر خوار بچے کا والد فروٹ منڈی میں پھیری کا کام کرتا ہے جبکہ گرفتار تمام ملزمان مغوی بچے کے قریبی رشتے دار اور پڑوسی ہیں، انھوں نے بتایا کہ 2 جنوری کو مغوی بچے کے والد فاروق کی مدعیت میں لیاقت آباد تھانے میں اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج ہے۔