دہشتگرد کارکنوں کی املاک کو نشانہ بنارہے ہیںشاہی سید

پی ایس 93 کے صدر ذاکر حنیف کے میڈیکل اسٹور پر بم دھماکے کی مذمت.


Staff Reporter January 06, 2013
سیکیورٹی ادارے ناکام ثابت ہورہے ہیں،بشیرجان اورعہدیداران جائے وقوع پہنچ گئے۔ فوٹو: فائل

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہفتہ کی صبح میٹروول سائٹ کے مین بازار میں ٹائم میڈیکل اسٹور کو دہشت گردوں نے پلانٹڈ بم سے مکمل طور پر تباہ کردیا۔

ٹائم میڈیکل اسٹور کے مالک عوامی نیشنل پارٹی پی ایس 93 کے صدر ذاکر حنیف ہیں ،دھماکا اس قدر زوردار تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا اور اس کی آواز خاصی دور تک سنی گئی ،واقعے کے فوراً بعد صوبائی جنرل سیکریٹری بشیرجان،کارکنان و عہدیداران کی بڑی تعداد جائے وقوع پر پہنچ گئی ،اس موقع پر کارکنان نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی جس پر صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان نے انھیں پر امن رہنے کی تلقین کی۔

اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس سے پہلے گزشتہ مہینے بھی میڈیکل اسٹور کو کریکر سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد ذاکر حنیف کے چھوٹے بھائی کو فون پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی جس کی باقاعدہ اطلاع پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی گئی،انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ پولیس نے مذکورہ میڈیکل اسٹور کے سامنے پکٹ لگانے کی یقین دہانی کروائی او ر پولیس کے ریکارڈ کے مطابق 2 پولیس اہلکار مذکورہ میڈیکل اسٹور کی حفاظت پر مامور ہیں۔

 

14

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے پی ایس93 کے صدر ذاکر حنیف کے میٹرول سائٹ میں قائم میڈیکل اسٹور کو بم سے تباہ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب نوبت ہمارے رہنمائوں کے املاک کو نشانہ بنانے تک آگئی ہے دہشت گرد آزادانہ طریقے سے ہمارے رہنمائوں، پارٹی دفاتر اور عہدیداران کی املاک کو نشانہ بنارہے ہیں،دہشت گردوں کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے معنی خیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں

دہشت گرد اور ان کی پناہ گاہیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے اگر ادارے اپنی ذمے داری پوری نہیں کرسکتے تو ہمیں واضح طور پر بتادیں میڈیا کے توسط سے ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے خدشات سے آگاہ کرچکے ہیں دہشت گردی کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگانے کی سازش کی جا رہی ہے کارکنان صبر سے کام لیں اور کسی صور ت قانون کا ہاتھ میں نہ لیں اور قیادت کی ہدایات کا انتظار کریں۔