چوہدری برادران نے طاہر القادری کو مارچ کیلیے 50 لاکھ دیے رپورٹ

زرداری اور چوہدریوں کے معاہدے کے ’ضامن‘ کے دباؤ پر پرویز الٰہی کو پریس کانفرنس کرنا پڑی


INP January 06, 2013
پارٹی اجلاس میں چوہدری برادران کو وزراء اور ارکان اسمبلی کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا۔ فوٹو: فائل

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الٰہی نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری سے چند روز قبل ہونے والی ملاقات میں لانگ مارچ کیلیے 50لاکھ روپے پیش کرکے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق چوہدری برادران جو کسی قیمت پر پر پنجاب میں دوبارہ ن لیگ کی حکومت نہیں چاہتے اور وہ شریف برادران کے ہر مخالف کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طاہر القادری کے مینار پاکستان پر بڑے جلسہ عام کے بعد چوہدری برادران نے طاہر القادری کی طرف ہاتھ بڑھا یا تاکہ دونوں اپنے مشترکہ دشمن کی راہ روک سکیں ۔ ذرائع کے مطابق چوہدری برادران کو طاہر القادری سے ملاقات پر پیپلز پارٹی اور اپنی جماعت کے اندر شدید ردعمل کا اندازہ نہیں تھا' صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے چوہدری برادران کی طاہر القادری سے ملاقات اور اپنی حمایت کا یقین دلانے کا سخت برا منایا۔

06

ذمے دار ذرائع کے مطابق صدر زرداری کی ہدایت پر وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار جن کی پہلے چوہدری برادران کے خلاف بیان بازی کیلیے 'زبان بندی' تھی سخت بیانات جاری کرنا شروع کردیے۔ ذرائع کے مطابق چوہدریوں اور صدر زرداری کے مابین معاہدے کے ضامن پراپرٹی ٹائیکون نے بھی چوہدری برادران کی اس سیاسی چال کا سخت برا منایا اور ان کی طرف سے کیے گئے سخت ٹیلی فون پر ملاقات کے اگلے روز چوہدری پرویز الٰہی کو لاہور میں پریس کانفرنس کرکے طاہر القادری کی حمایت کے اعلان کو واپس لینا پڑا۔ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کئی روز کی تگ و دو کے بعد ممکن ہوسکی۔