رفیقان صدقِ وصفا
ہرانسان کے دوست تو بہت ہوتے ہیں لیکن ہر انسان کے دوستوں کا ایک حلقہ ایسا ہوتا ہے جو ’’قریبی‘‘ کہلاتا ہے
ہرانسان کے دوست تو بہت ہوتے ہیں لیکن ہر انسان کے دوستوں کا ایک حلقہ ایسا ہوتا ہے جو ''قریبی'' کہلاتا ہے۔ اس حلقے میں قابل اعتماد دوستوں کے ساتھ نظریاتی دوست بھی شامل ہوتے ہیں جو نظریاتی سرگرمیوں میں ہمقدم رہتے ہیں۔ ہمارے ایسے ہی دوستوں میں اعز عزیزی شامل تھے۔ اعز عزیزی نظریاتی دوست ہونے کے ساتھ ایک وصف دار انسان بھی تھے۔
میں جب پائلر کے طارق روڈ والے آفس میں نیوز لیٹر کی ادارت کی ذمے داریاں ادا کرتا تھا تو عزیزی ہر روز آفس کا ایک چکر ضرور لگا لیتے تھے اور سیاست حاضرہ کے ساتھ اس بات پر بھی گفتگو ہوتی تھی کہ پسے ہوئے طبقات کو صدیوں کی اقتصادی اور سماجی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے کیا طریقے اختیارکیے جائیں۔ مزدوروں، کسانوں کو کسی طرح منظم اور طبقاتی شعور سے لیس کیا جائے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں سے عوام کوکیسے نجات دلائی جائے؟
عزیزی کی زندگی کا بڑا حصہ بھی نظریاتی جنگ ہی میں گزرا تھا۔ عزیزی کا شمار حسن ناصر کے جانثار دوستوں میں ہوتا تھا۔ عزیزی حسن ناصرکے انڈرگراؤنڈ وقتوں میں حسن ناصرکی دیکھ بھال اور ضرورتیں پوری کرنے کی ذمے داری پوری کیا کرتے۔ عزیزی ایک مشاق مجسمہ ساز بھی تھے ان کے ڈرائنگ روم میں ان کے بنائے ہوئے مجسمے موجود ہوتے، جنھیں دیکھ کر عزیزی کی فنکاری کی داد دینا پڑتی تھی۔ عزیزی ایک ترقی پسندکارکن، ایک فنکار کے ساتھ ایک نفیس انسان بھی تھے۔
ان کی نفاست نوازی کی وجہ سے انھیں ترقی پسند بیوروکریٹ کہا جاتا تھا۔ صاحب کار ہوتے تھے اور بے کار دوستوں کو کارکی بلامعاوضہ سہولت فراہم کرتے تھے۔ ڈاکٹر اعزاز نظیرکے برادر خورد ہونے کی وجہ سے بھی ان کا رشتہ ترقی پسند فکر سے بہت گہرا تھا، بلکہ اس حوالے سے ''ہمہ خاندان آفتاب'' والا معاملہ تھا۔ عزیزی کے بیٹے، بیٹیاںسب نظریاتی سفر میں عزیزی کے ہمنوا تھے اور گھر کا ماحول بھی ترقی پسندانہ تھا۔ گھر میں ہر کام ایک ڈسپلن کے تحت ہوتا تھا جو بہت کم گھروں میں دیکھا جاتا ہے۔
عزیزی کے صاحبزادے حماد کا فون آیا کہ ہم نے پاپا کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب ''رفیقانِ صدق وصفا'' کے نام سے چھپوا لی ہے۔ میں آپ کو اس کی ایک کاپی بھجوارہا ہوں آپ سے درخواست ہے کہ اس کی لانچنگ میں آپ شرکت کریں اور اس موقع پر پاپا کی نظریاتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالیں۔ لانچنگ کی تقریب کی تاریخ ہماری کمزور یادداشت کی نذر ہو گئی اور ہم لانچنگ کے پروگرام میں شرکت نہ کر سکے۔ جس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔
آج جب اخبارات میں اس تقریب کی خبر دیکھی تو افسوس سے ہاتھ ملتے رہ گئے، تقریب روایت کے مطابق آرٹس کونسل میں منعقد ہوئی تھی اور کامریڈوں نے عزیزی کی زندگی اور نظریاتی خدمات کا جائزہ بھی بڑی دیانت داری سے پیش کیا تھا۔ عزیزی ایک فکری سرگرم کارکن تھے اور ہمیشہ سوشلزم کے نفاذ کے حوالے سے نظریاتی بحث مباحثوں میں مصروف رہتے تھے۔ دوستوں کو کامریڈ کہہ کر خوش ہوتے تھے اور خود کو کامریڈ کہلوانا پسند کرتے تھے۔ عزیزی نے اپنی کتاب ''رفیقان صدق و صفا'' میں جن احباب کی نظریاتی خدمات کا ذکر کیا ہے وہ سب بھلے لوگ ہیں اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ انھوں نے نظریاتی جد وجہد میں گزرا۔ ہمارے حلقوں میں ایک بڑی کمزوری ہے کہ دوستوں کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں کرنے سے دانستہ یا نادانستہ غفلت کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اس حوالے سے میں نے اپنے نظریاتی اور متحرک دوستوں کی توجہ بار بار اس کمزوری کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی لیکن ہماری کوششیں ہمیشہ بھینس کے آگے بین بجانے سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کر سکیں۔ معراج محمد خان ایک عرصے تک علیل بلکہ سخت علیل رہے ہم نے دوستوں کو بار بار کہاکہ معراج کی زندگی ہی میں کسی معقول تقریب میں سپاس کا اہتمام کیا جائے لیکن ہماری یاد دہانیاں چکنے گڑھے پر پانی سے زیادہ اہم ثابت نہ ہو سکیں۔ معراج کے دست راست اظہار جمیل ایڈووکیٹ کی یہ بات میرے ذہن میں کانٹے کی طرح چبھتی رہتی ہے کہ ''ہم مردہ پرست لوگ ہیں''
سرمایہ دارانہ نظام استحصال نے دنیا کے 7 ارب انسانوں کو حیوانوں کی طرح بے زبان بنا کر رکھ دیا ہے اور انھیں معاشی مسائل میں اس طرح جکڑ کر رکھ دیا ہے کہ ان کی زندگی کا سارا وقت دو وقت کی روٹی کے حصول کی جد وجہد ہی میں گزر جاتا ہے۔ ان کے پاس اس موضوع پر سوچنے کا وقت ہی نہیں رہتا کہ ان کی زندگی جہنم کیوں بنی ہوئی ہے اور جہنم کس نے بنایا ہے۔
صدیوں پر مشتمل اس نظام کی حشر سامانیوں پر غورکرنے کے بعد اس دنیا کی دو انسان دوست انسانیت نواز ہستیوں مارکس اور اینجلز نے ایک بہتر متبادل کے طور پر سوشلزم کا نظریہ پیش کیا۔ 1917ء میں انقلاب روس مارکس اور اینجلزکے نظریے پر عمل در آمد کا حصہ تھا۔ 50 سال کے اندر اندر روس دنیا کی دوسری سپر پاور اس نظریے کی بدولت بنا اور پھر چین سمیت دنیا کا 1/3 حصہ سوشلسٹ نظام معیشت قبول کر کے اس کی افادیت کو تسلیم کیا لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے اس انسان دوست نظام کے خلاف جو ہشت جہت پروپیگنڈا شروع کیا۔
اس کی ایک جہت بڑی حساس تھی انسان دوست اس نظام کو مغربی ملکوں کے حکمرانوں نے مذہب دشمن کا نام دے کر اربوں ڈالر کے خرچے سے ایسا بھرپور پروپیگنڈا کیا کہ اس پروپیگنڈے سے دنیا بھر کے سادہ لوح مسلمان بری طرح متاثر ہوئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ سوشلزم واقعی دین دشمن نظریہ ہے۔ اس سازش میں مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے دانستہ نادانستہ شرکت کر کے مسلم ملکوں میں سوشلزم کے خلاف ایک ایسی فضا تیار کی کہ غریب طبقات کو سرمایہ دارانہ استحصال سے نکالنے والے اس نظام کے سب سے بڑے مخالف غریب عوام ہی ہو گئے لیکن آج یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام استحصال کا سوشلزم سے بہتر کوئی متبادل نہیں۔ اس پس منظر میں وہ تمام سیاسی کارکن جو سوشلزم کو غریب طبقات کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں قابل احترام ہیں اور ایک سوشلسٹ کی حیثیت سے اعز عزیزی بھی قابل احترام ہے۔