وزیر بلدیات کا بیان حقائق کے منافی ہے تنخواہوں کی ادائیگی کیلیے رقم نہیں ایڈمنسٹریٹر بلدیہ

پراپرٹی ٹیکس لے لیا گیا ، اسکیمیں ایل ڈی اے اور ایم ڈی اے کو دیدی گئیں، شدید مالی بحران کا شکار ہیں


Staff Reporter January 11, 2013
ملازمین کو تنخواہ اور پنشن کیلیے 90 کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے، ماہ دسمبر کی تنخواہ واجب الادا ہے، حکومت سندھ صرف 32 کروڑ 86 لاکھ روپے فراہم کرتی ہے،محمد حسین سید۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو اس کے حصے کے ماہانہ فنڈ کی باقاعدگی سے ادائیگی کے حوالے سے وزیر بلدیات کا بیان حقا ئق کے منافی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ناکافی فنڈز ملنے کی وجہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہے اورملازمین کو بمشکل ماہ نومبر کی تنخواہیں ادا کی گئی ہیں،ماہ دسمبر کی تنخواہ واجب الادا ہے، انھوں نے کہا کہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہمارے پاس رقوم نہیں ہیں اور اس حوالے سے بارہا یہ بتایا جا چکا ہے کہ حکومت سندھ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلیے ہر ماہ آکٹرائے ضلع ٹیکس کے شیئر کی مد میں صرف 32 کروڑ 86 لاکھ روپے فراہم کرتی ہے۔

بلدیاتی ملازمین کو ماہانہ تنخواہ اور پنشن کیلیے 90 کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے،کے ایم سی آکٹرائے سے ہونے والی آمدنی سے مختلف ضروریات پورا کرتی تھی، آکٹرائے ختم کرتے وقت جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں ڈھا ئی فیصد اضافہ کیا گیا اور صوبے کو اس مد میں ملنے والی رقوم سے 60 فیصد کراچی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، کے ایم سی کو جو مالی حقوق ملنے تھے اور جو فارمولا طے کیا گیا تھا، اس کے مطابق کے ایم سی کو رقوم ادا نہیں کی گئیں بلکہ پراپرٹی ٹیکس بھی ہم سے لے لیا گیا ،ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے ) کی جتنی بھی نئی اسکیمیں تھیں انھیں لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو منتقل کردیا گیا ۔

02

مزید یہ کہ پراونشل فنانس کمیشن ایوارڈ 30 جون 2011ء کو ختم ہوگیا ، اس کے بعد اس ایوارڈ کا نہ اجلاس ہوا اور نہ ہی کوئی فیصلہ ہوا ، نتیجتاً کے ایم سی مستقل واجب الادا سے انتہائی کم رقوم محکمہ خزانہ سے وصول کر رہی ہے ،ملازمین کی تنخواہوں میں بھی حکومت کی جانب سے متعدد بار اضافہ کیا گیا ہے جو کہ مجموعی طور پر 200 فیصد تک ہے ، انھوں نے کہا کہ تنخواہوں کے علاوہ کے ایم سی اور 18 ٹائونز کے ریٹائرڈ ہوجانے والے ملازمین کی پنشن بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی ادا کرتی ہے جس کی وجہ سے رقم ہر ماہ درکار ہوتی ہے، موجودہ حالات کے باعث میونسپل ورکرز، فائربریگیڈ اور بلدیہ کراچی کے اسپتالوں کے عملے کو بھی تنخواہ کی ادائیگی مشکل ثابت ہورہی ہے جبکہ فائر بریگیڈ کو فائر رسک الائونس بھی ادا نہیں کیا جاسکا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو فراہم کیے جانے والے فنڈز سے صرف ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کا الزام غلط ہے کیونکہ سب سے پہلے تنخواہوںکی ادائیگی کی جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باعث بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازمین معاشی مشکلات سے گزر رہے ہیں اور ان کے لیے روزمرہ اخراجات پورا کرنا مشکل ہورہا ہے اگر محکمہ خزانہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ہر ماہ اس کے جائز حصے کے مطابق فنڈز جاری کرے تو تمام ملازمین کو بروقت تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے بصورت دیگر ایسا ممکن نہیں۔