لانگ مارچ والوں کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ایاز سومرو

لوکل گورنمنٹ ایکٹ آسمانی صحیفہ نہیں جس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی.


Staff Reporter January 12, 2013
سندھ میں سندھی،اردو سمیت کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، تمام زبانوں سے پیار ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر قانون سندھ محمد ایاز سومرو نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کی بے موسمی اور بے سری بانسری بجانے والوں کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

ان کے لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، کیونکہ ملک کے جمہوریت پسند عوام اور سول سوسائٹی نے ان کے اصل چہروں کو پہچان لیا ہے، جن لوگوںنے ڈکٹیٹر کا مقابلہ کرکے اسے بھاگنے پر مجبور کیا وہ جمہوری اداروں کے خلاف کسی ایرے غیرے کے کھیل کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جمعہ کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایاز سومرو نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے جس میں تبدیلی یا ترمیم نہیں ہوسکتی۔

 

07

سندھ اسمبلی عوام کامنتخب اور معزز ایوان ہے، اگر اسمبلی چاہے تو نہ صرف اس ایکٹ میں ترمیم کرسکتی ہے بلکہ نیا ایکٹ بھی منظور کرسکتی ہے، انھوں نے کہا کہ قائد اعظم محمدعلی جناحؒ ضلع ٹھٹھہ کے شہر جھرک میں پیدا ہوئے، وہ سندھ کے اصلی باشندے اور بانی پاکستان ہیں جس پر ہمیں فخر ہے، انھوں نے کہا کہ سندھ تاریخی حیثیت رکھنے والی دھرتی ہے جس کے وارث شاہ لطیف ، سچل سرمست، لال شہباز قلندر اور کروڑوں سندھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ میںسندھی، اردو ، سرائیکی، تھری، ڈہاٹکی، بلوچی، پشتو ، پنجابی، کشمیری، ہزاروی اور ہندکو سمیت کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، تمام زبانوں سے ہمیں پیار ہے کیونکہ زبانیں محبت اورپیار کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہیں جبکہ سندھی سندھ کی قومی زبان ہے، سندھ میں رہنے والے تمام لوگ سندھی ہیں خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔