جامعہ کراچی سے 2ہزار ڈگریاں چوری مقدمہ درج

نامعلوم چور 9 جنوری کی شب پرنٹنگ پریس کی چادریں ہٹاکر اور تالے توڑ کر سیریل نمبر لگی ڈگریاں لے اڑے.


Staff Reporter January 13, 2013
حفاظت پر مامور 150سیکیورٹی گارڈ ناکافی ہیں، آئے دن موٹر سائیکل چوری کے واقعات معمول بن گئے، محمودالحسن لائبریری اورفارمیسی میں بھی نقب لگ چکی ہے۔ فوٹو: فائل

جامعہ کراچی سے پراسرار طور پر2 ہزار ڈگریاں غائب ہوگئیں۔

انتظامیہ نے ایک روز کی تاخیر کے بعد ڈگریوں کی چوری کا مقدمہ درج کرادیا، تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے پرنٹنگ پریس سے 4بنڈلوں میں موجود 2 ہزار ڈگریاں پراسرار طور پر غائب ہوگئی ہیں، چوری کا انکشاف ہونے پر جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے ایک روز کی تاخیر کے بعد ڈگریوں کی چوری کا مقدمہ مبینہ ٹائون تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرادیا، مبینہ ٹائون پولیس کے مطابق ڈگریاں چوری کرنے کا مقدمہ شعبہ تصنیف و تالیف کے ڈائریکٹر سید خالد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مدعی نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے پرنٹنگ پریس سے ڈگریاں 9 جنوری کی شب چوری کی گئی ہیں، چوری کی جانے والی ڈگریوں پر سیریل نمبر بھی درج ہیں تاہم ڈگریوں پر کسی کا نام اور دستخط نہیں تھے، سید خالد نے پولیس کو بتایا کہ نامعلوم چور پرنٹنگ پریس کی چھت پر لگی ہوئی سیمنٹ کی چادریں ہٹا کر اندر داخل ہوئے،ایک کمرے کاتالاجبکہ دوسرے کمرے کے دروازے کی کنڈی بھی توڑی اور وہاں پر رکھی ہوئی ڈگریاں چوری کر کے فرار ہوگئے۔

03

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ واچ اینڈ وارڈ میں چوکیداروں کی تعداد تقریباً 150 کے قریب ہے جو جامعہ کراچی کے انتظامی بلاک، شعبہ ایگزامنیشن اور ڈسپنسری سمیت تمام شعبہ جات کے مرکزی دروازوں اور رہائشی علاقوں میں تعینات رہتے ہیں،حفاظتی اقدامات کی تکمیل کے لیے یہ تعداد ناکافی ہے اسی وجہ سے جامعہ کراچی میں آئے دن چوری کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، ڈگریاں چوری ہونے سے قبل بھی جامعہ کراچی کی ڈاکٹر محمودالحسن لائبریری اور شعبہ فارمیسی میں چوری کے واقعات ہو چکے ہیں جبکہ جامعہ کراچی میں موٹر سائیکلوں کی چوری کے واقعات بھی آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔