معروف شاعر احمد فراز کا 83 واں یوم پیدائش آج منایا جائیگا

کئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈز سے نواز ے گئے،دنیا کی بڑی زبانوں میں شاعری ترجمہ ہوچکی.


Staff Reporter January 14, 2013
پرویز مشرف کی پالیسیوں پر بطور احتجاج ہلال امتیاز واپس کردیا، 14 مجموعے منظر عام پر آئے۔ فوٹو: فائل

معروف شاعر احمد فراز کا83 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے احمد فراز 4 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے اردو اور فارسی میں ایم اے کیا اور ایڈرورڈکالج (پشاور) میں دوران تعلیم ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر لکھنے شروع کیے،جب انکا پہلا شعری مجموعہ تنہاتنہا شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہوگئے اور یونیورسٹی میں لیکچرر شپ اختیار کی اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ درد آشوب چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گلڈزکی جانب سے آدم جی ادبی ایوارڈ عطاکیاگیا، انھیں 1976میں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایاگیا، 2006 تک احمد فراز نیشنل بک فائونڈیشن کے سربراہ رہے۔

 

07

احمد فراز کو انکی ادبی خدمات پر 1988میں آدم جی ایوارڈ1990میں اباسین ایوارڈ 1988میں انھیں بھارت میں فراق گورکھپوری ایوارڈ سے نوازا گیا اکیڈمی آف اردو لٹریچر(کینیڈا) نے انھیں 1991 میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا جبکہ بھارت میں احمد فراز کو1992میں ٹاٹا ایواڈ ملا، انکی شاعری کے انگریزی، فرانسیسی، ہندی یوگوسلاوی،روسی،جرمن اور پنجابی میں تراجم ہوچکے ہیں 2004 میں جنرل پرویز مشرف کے دور صدارت میں انھیں ہلال امتیاز سے نوازاگیا لیکن دو برس بعد انھوں نے یہ تمغہ سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کردیا۔

احمد فراز کی شاعری پر مبنی انکے 14 مجموعے منظر عام پر آئے جن میں تنہاتنہا، درد آشوب، شب خون، نایافت، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابیناشہر میں آئینہ، پس انداز موسم، سب آوازیں میری ہیں ، خواب گل پریشاں ہے، مودلک، غزل بہانہ کروں ، جاناں جاناں، اے عشق جنوں پیشہ، شامل ہیں،ان کی شاعری احمد فراز کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔