سندھ حکومت کا 600 بسیں چلانے کیلیے 2 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ

سبسڈی ٹرانسپورٹروں کوملے گی، 8 ہزار بسوں کی کمی پوری کرنے کا طریقہ کار وضع کرلیا گیا


Staff Reporter March 30, 2017
سبسڈی5 سال تک ہوگی، ڈیبیٹ ایکویٹی70اور30 کی شرح سے ہوگا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ۔ فوٹو: پی پی آئی

حکومت سندھ نے بس ریپڈ ٹرانسپورٹ شروع کرنے سے پہلے شہر میں 600 بسیں چلائے گی تاہم 600 بسیں چلانے کے لیے حکومت سندھ نے ٹرانسپورٹرزکو 2 ارب روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے کراچی میں بس ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبہ شروع کرنے سے پہلے شہر میں فوری طور600 بسیں چلانے کے لیے ٹرانسپورٹرزکو 2 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ بدھ کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں انٹراسٹی اور انٹرسٹی بس سروس سے متعلق منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ شہر میں8 ہزار بسوں کی کمی ہے لہٰذ ا ایک نیا طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے جس کے تحت کم از کم 600 بسیں موجودہ مسافر بسوں کے فلیٹ میں شامل کی جائیں تاکہ شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے نمٹا جاسکے انھوں نے کہ بس ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے کے آغاز سے قبل یہ اقدام ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹرزکو 5 سال کی مدت کے لیے سبسڈی کی صورت میں مدد فراہم کرے گی اس میں 70 اور 30کی شرح سے ڈیبیٹ ایکویٹی ہوگا ٹرانسپورٹزر کے ایکیوٹی 15فیصد ہوگی جبکہ 15فیصد سندھ حکومت بلاسود قرضے کی صورت میں دے گی، یہ قرضہ سندھ مضاربہ لون لمیٹڈ کو ایک سال میں قابل واپسی قرضے کی صورت میں دیا جائے گا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اسی طریقہ کار کے تحت کراچی سے دیگر شہروں میں بسیں چلانے کا منصوبہ انٹر سٹی پروجیکٹ شروع کرنے کی بھی تجویز دی ہے، تجویز کے تحت سندھ حکومت گاڑی کی انشورنس کی لاگت برداشت کرے گی جو سندھ انشورنس لمیٹڈ کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ انشورنس گاڑی کی کل قیمت کا5 فیصد ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس طرح کی سرمایہ کاری صرف مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں میں کی جائے گی اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ اگر ٹرانسپورٹرز تمام اقساط وقت پر ادا کردیتا ہے اور گاڑی کی حالت کو صحیح رکھتا ہے تو سندھ حکومت اس کی لاگت کے حصے کا 15فیصد معاف کردے گی۔

ادھر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ نے بلیو لائن بسوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ اس کا روٹ الآصف اسکوائر (سہراب گوٹھ) تا گولیمار ہوگا جو 12کلومیٹر طویل ہے جس میں 6.6 کلومیٹر ایلیویٹڈ ہوگا اور اسکے 9 اسٹیشن ہوں گے اس لائن کے ذریعے روزانہ 3 لاکھ 75 ہزار مسافر سفر کریں گے۔

علاوہ ازیں سیکریٹری ٹرانسپورٹ طحہٰ فاروقی نے کہا کہ الآصف اسکوائر سے شروع ہونے والا روٹ براستہ یوسف پلازہ، نصیر آباد، عائشہ منزل، کریم آباد، لیاقت آباد، ڈاکخانہ، تین ہٹی اور گرو مندر تک جائے گا وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ وہ تمام تر ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کو جلد شروع کرے سندھ حکومت ٹرانسپورٹرز کی مالی اور انتظامی سطح پر ہر ممکن مدد کرے گی۔