کوئٹہ سے منتقل کیے جانیوالے3زخمیوں کی حالت تشویشناک

کراچی لائے گئے 31زخمیوں میں 2بچے بھی شامل ہیں، گہرے زخم آئے ہیں، ڈاکٹرز.


Staff Reporter January 15, 2013
زخمیوں اور ان کے تیمارداروں کوہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں، صوبائی وزیر صحت فوٹو : فائل

کوئٹہ سے کراچی منتقل کیے جانے والے زخمیوں میں سے3کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

جو آغاخان اسپتال میں زیر علاج ہیں، اس وقت سانحہ کوئٹہ کے31زخمیوںکوکراچی کے 2 نجی اسپتالوں میں منتقل کیاگیا ہے ان زخمیوں میں2بچے بھی شامل ہیں ان میں سے ایک بچہ 8سال دوسرے بچے کی عمر10 سال بتائی گئی ہے، ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے ایک زیر علاج زخمی ہارون کے اہلخانہ نے بتایا کہ کہ پہلے دھماکے کے بعد ان کا بھائی متاثرین کی مدد کیلیے دوڑا ہی تھاکہ اچانک دوسرا دھماکا ہوگیا۔

جس کے نتیجے میں ہارون کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جبکہ دیگر زخم بھی آئے ہیں،25سالہ محمد ابراہیم کے بھائی لقمان نے بتایاکہ میرا بھائی ابراہیم کالج سے گھر آرہاتھاکہ وہ حملے کی لپیٹ میں آگیااورسر اورٹانگوں اورجسم پر شدید زخم آئے،دیگر زخمیوں کے اہلخانہ سے بتایا کہ دھماکا اتنازوردار تھا کہ تھوڑی دیر کیلیے سماعتیں بھی متاثرہوگئیں تھیں، ڈاکٹروں کے مطابق کراچی منتقل کیے جانیوالے زخمیوں کوگہرے زخم آئے ہیں ان میں سے 3 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔



دریں اثنا صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرصغیراحمدنے کہا ہے کہ کوئٹہ سے کراچی منتقل کیے جانے والے کوئٹہ بم دھماکے میں زخمیوںکے علاج پرکوئی کسرنہ اٹھارکھی جائے اور ان زخمیوں اور ان کے تیماداروںکوہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں،ای ڈی اوہیلتھ کراچی ڈاکٹر امداد اللہ صدیقی کوزخمیوںکے علاج کی نگرانی کیلیے مقرر کیا گیا ہے،صوبائی وزیرصحت ڈاکٹرصغیراحمد نے بتایاکہ زخمیوںکولیاقت نیشنل اورآغاخان اسپتال منتقل کیاگیاان کے علاج کے تمام اخراجات حکومت سندھ برداشت کریگی اس سلسلے میں دونوں اسپتالوں کی انتظامیہ کوبھی آگاہ کردیا گیا۔

انھوں نے بتایاکہ کوئٹہ سے مزید زخمیوںکی منتقلی کیلیے بھی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور زخمیوںکوڈائویونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں منتقل کرنے کے حوالے سے انتظامات کرلیے گئے ہیں، دریں اثناء ای ڈی اوہیلتھ ڈاکٹر امداداللہ صدیقی نے بتایاکہ زخمیوںکی فہرست بھی جاری کردی گئی ہے۔