اردو کے عظیم افسانہ نگار منٹو کی برسی آج منائی جائیگی

کئی افسانوی مجموعے بطور ڈرامے اور خاکے شائع ہوچکے،42 برس کی عمر میں انتقال ہوا


Staff Reporter January 18, 2013
ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی،پاکستان بننے کے بعد بہترین افسانے تخلیق کیے۔ فوٹو: فائل

اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی آج 58ویں برسی منائی جائیگی۔

سعادت حسن منٹو11مئی1912کو ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے اورابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی، 1921میں ایم اومڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا، ان کا تعلیمی دورانیہ حوصلہ افزا نہیںتھا مگر پھر بھی منٹو نے اپنی تعلیم جاری رکھی، سعادت حسن منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا، سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے منٹو کو اپنا آپ ظاہر کرنے میں مدت لگی، پاکستان بننے کے بعد منٹو نے بہترین افسانے تخلیق کیے جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ،کھول دو،ٹھنڈا گوشت،دھواں اور بو شامل ہیں۔



ان کے کئی افسانوی مجموعے، ڈرامے اور خاکے شائع ہوچکے ہیں، سعادت حسن منٹو کو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار سمجھا جاتا ہے، ان کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں، منٹو وہ صاحب اسلوب نثر نگار ہیں کہ جن کے افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں، سعادت حسن منٹو کہتے تھے کہ افسانہ مجھے لکھتا ہے، اردو کے اس عظیم افسانہ نگار کا انتقال 42برس کی عمر میں کثرت مے نوشی کی وجہ سے18 جنوری 1955 میں ہوا، ان کے انتقال کو58برس بیت چکے ہیں مگر وہ آج بھی اپنی تحریروں سے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔