شاہ زیب قتل کیس شاہ رخ جتوئی و دیگر ملزموں کا 7روزہ جسمانی ریمانڈ باپ رہا

ملزم کی عمر کے تعین کیلیے ٹیسٹ کرانے کا حکم ،انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سکندر جتوئی کی رہائی پر رپورٹ طلب


Staff Reporter January 18, 2013
مرکزی ملزم کا ریمانڈنہ دینے اورگولیوں کے خول عدالتی تحویل میں لینے کی درخواست مسترد کردی گئی. فوٹو فائل

نوجوان شاہ زیب کے مقدمہ قتل میں مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی دبئی سے گرفتار کیاگیا تو اس کے والد سکندر جتوئی کورہا کردیا گیا۔

ملزم کی جانب سے کم عمر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت مقدمہ علیحدہ کرنے اور پولیس کو جسمانی ریمانڈ نہ دینے کی درخواستیں کی گئیں جوکہ مستردکردی گئیں۔ جمعرات کی سہ پہر ساڑھے3 بجے پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات میں ایک بکتربندگاڑی میں ملزم شاہ رخ جتوئی کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 3میں پیش کیا، پولیس نے 3 ملزمان سراج تالپور،سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کو بھی ریمانڈ کے لیے پیش کیا، استغاثہ کے مطابق ملزمان شاہ رخ جتوئی ، سکندرتالپور، سجاد تالپور اوران کے باورچی غلام مرتضیٰ لاشاری نے 24/25دسمبر کی درمیانی شب درخشاں تھانے کی حدود میں فائرنگ کرکے ڈی ایس پی اورنگزیب کے اکلوتے بیٹے شاہ زیب کو قتل کردیاتھا۔

پولیس نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے توسط سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(II)کے تحت رپورٹ پیش کی کہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دینے اور فرار کرانے میں مدد دینے کے الزام میں اس کے والد سکندر جتوئی کے خلاف تاحال کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے اس لیے انھیں ذاتی مچلکے پر رہا کردیاگیا ہے ۔تفتیشی افسر انسپکٹر مبین نے موقف اختیارکیا کہ ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزمان سے تفتیش کی جانی ہے، ملزمان آصف لونداور سلمان جتوئی کو گرفتارکرنا ہے ،آلہ قتل اور واردات میں استعمال ہونیوالی گاڑی بھی برآمد کرنا ہے ، اس لیے ملزمان کو27جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جائے ۔

12

شاہ رخ جتوئی کی جانب سے عامر منصوب قریشی اورنعیم قریشی ایڈووکیٹس نے وکالت نامے داخل کرتے ہوئے3 متفرق درخواستوں میں موقف اختیارکیاگیاکہ ملزم شاہ رخ جتوئی کم عمر ہے اس کا مقدمہ دیگر ملزمان سے علیحدہ کرکے جووینائل قوانین کے تحت چلایا جائے اور جائے واردات سے ملنے والی 9گولیوں کے خول عدالت اپنی تحویل میں لے تاکہ پولیس ٹمپرنگ نہ کرسکے ، وکلائے صفائی نے ملزم کی عمر تحریر نہیں کی۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف نے کہا کہ گواہوں سے ملزم کی شناخت کرانا ہے ، اس لیے اس کا پولیس کی تحویل میں ہونا ضروری ہے ۔

فاضل عدالت نے پولیس سرجن کو میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر ملزم کا ٹیسٹ کرانے اور رپورٹ ایک ہفتے میں عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ سرکاری وکیل نے کہاکہ گولیوں کے خول پولیس نے فارنسک معائنے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے ہیں ، درخواست غیرقانونی ہے ، فاضل عدالت نے درخواست مستردکردی اور ملزمان کو 23جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میںدیدیا اور سکندر جتوئی کی رہائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔