پاکستان میں پکڑے جانے والے 14 بھارتی ’جاسوسوں‘ کی کہانی

بھارت نےکسی بھی جاسوس کے پکڑے جانے پراتنا شور اور واویلا نہیں مچایا جتنا کلبھوشن کو سزا ملنےکے بعد دیکھنے میں آرہا ہے


آصف محمود April 17, 2017
پاکستانی عوام چند ایک بھارتی جاسوسس کے بارے میں ہی جانتی ہے جیسے کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ، لیکن آج ہم آپ کو تمام بھارتی جاسوسوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔

ISLAMABAD: پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں درجنوں بھارتی جاسوس پکڑے گئے، اِن میں سے کئی ایسے ہیں جو اپنی سزائیں مکمل کرکے واپس لوٹ گئے اور بعض آج بھی جیلوں میں قید ہیں۔ میں نے اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران چند ایک بھارتی جاسوسوں کو واہگہ بارڈر کے راستے رخصت کیا ہے، جبکہ سربجیت سنگھ کی لاش بھی اپنے ہاتھوں واپس بھیجی تھی۔ پاکستان میں پکڑے جانیوالے بھارتی ایجنٹوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی جاتی رہی ہیں تاہم آج تک صرف ایک جاسوس شیخ شمیم کو پھانسی دی گئی، دوسرا بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ تھا جسے سزائے موت سنائی گئی مگر وہ پھانسی پر چڑھائے جانے سے پہلے ہی جیل میں ایک قیدی کے حملے کرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا، اور لاہور کے جناح اسپتال میں سات روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ مجھ سمیت میڈیا سے وابستہ دیگر لوگ سات دن تک جناح اسپتال میں ڈیرے ڈالے بیٹھے رہے تھے، سربجیت سنگھ کی خودساختہ بہن دلبیرکور سے سربجیت کی بیٹیوں سے دو بار ملاقات بھی ہوئی تھی جو اپنے باپ سے آخری ملاقات کے لئے پاکستان آئی تھیں۔

لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت نے آج تک اپنے کسی بھی جاسوس کے پکڑے جانے پر اتنا شور اور واویلا نہیں کیا جتنا کلبھوشن کو سزا سنائے جانے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے۔ کئی جاسوس تو ایسے تھے جنہوں نے کئی سال پاکستانی جیلوں میں گزارے اور جب واپس بھارت گئے تو اِن کی حکومت نے پہچاننے سے بھی انکار کردیا، وہ لوگ آج کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ کئی ایجنٹوں اور اُن کے خاندانوں کو مراعات سے نوازا بھی گیا۔

پاکستان میں گرفتار کئے جانیوالے چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں خود بھارتی ذرائعِ ابلاغ نے رپورٹس شائع کی ہیں، اِن میں سے کئی ایجنٹ ایسے ہیں جو رہا ہوکر واپس جاچکے ہیں جبکہ چند ایک آج بھی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں، کلبھوشن یادو سمیت چند ایسے بھارتی جاسوس ہیں جن کے بارے میں پاکستانی عوام بہت کچھ جانتے ہیں اور اُن کے ناموں سے بھی واقف ہیں، جن میں کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ سب سے نمایاں ہیں لیکن کئی ایسے ہیں جن کے بارے تفصیلات پاکستانی میڈیا میں شائع نہیں ہوسکی ہیں، ایسے ہی چند بھارتی جاسوسوں کے بارے میں آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں کلبھوشن یادو کی، جس کو سنائی گئی سزائے موت کو لے کربھارت اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا ہے۔

 

کلبھوشن یادو


بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادو کو 3 مارچ 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ جس کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادو بھارتی نیوی کا افسر تھا، بحریہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تھی۔

گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادو کے گناہوں کے اعتراف پر مبنی ایک ویڈیو بیان منظرِ عام پر لایا گیا تھا، جس میں کلبھوشن نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچوں سے ملاقاتیں کرتا رہا ہے، اور اِن ملاقاتوں میں اکثر افغانستان کے انٹیلی جنس اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔ بھارتی جاسوس نے دورانِ تفتیش تمام الزامات کو تسلیم کیا تھا۔ کلبھوشن یادو نے کراچی اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا اعتراف کیا تھا جبکہ یہ بھی اعتراف کیا تھا وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے مشن پر تھا۔

کلبھوشن یادو نے 1987ء میں بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی پونا جوائن کی، یکم جنوری 1991ء میں انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ 2001ء میں بھارتی نیول انٹیلی جنس میں شامل ہوا اور 2013ء سے ''را'' کے لئے کام کررہا تھا جبکہ 2022ء میں ریٹائر ہونا تھا لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔





سربجیت سنگھ


سربجیت سنگھ کو اگست 1990ء میں گرفتار کیا گیا، سربجیت سنگھ پر لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں بم دھماکوں کا الزام تھا، جس میں درجنوں بے گناہ افراد مارے گئے تھے اور انہی دھماکوں کے جرم میں اِسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سربجیت سنگھ کے بارے میں بھارتی حکومت کا موقف تھا کہ سربجیت سنگھ کا نام سرجیت سنگھ تھا، اور وہ شراب کے نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے غلطی سے بارڈر کراس کرکے پاکستان آیا تھا۔

سربجیت سنگھ کی رہائی کے لئے اُس کی بہن دلبیر کور نے کافی کوششیں کیں، قوی امکان تھا کہ اُسے انسانی ہمدری کے تحت رہا کردیا جاتا تاہم اِس سے قبل رہا کئے گئے کشمیر سنگھ کے بیانات نے پاکستان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی جس کی وجہ سے سربجیت کی رہائی کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا اور پھر 26 اپریل 2013ء 2013ء میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سربجیت سنگھ پر ایک ساتھی قیدی نے حملہ کیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگیا اور ایک ہفتہ جناح اسپتال میں زیرِعلاج رہنے کے بعد دم توڑگیا۔ 2 مئی 2013ء کو اُس کی لاش واہگہ بارڈر کے راستے بھارت بھیجی گئی تھی۔ بھارت میں پورے اعزازات کے ساتھ اِس کی آخری رسومات اداکی گئیں۔



 

کشمیر سنگھ


لاہور کے واہگہ بارڈر پر کشمیر سنگھ کا ہنستا مسکراتا چہرہ مجھے آج تک نہیں بھولا، لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ اِس شیطانی مسکراہٹ کے پیچھے کیا راز چھپا ہے؟ ہم لوگ اِس لئے خوش تھے کہ ایک ایسے بزرگ کو رہا کررہے ہیں جس کا کہنا ہے کہ اُس نے جیل کے دوران اسلام قبول کرلیا تھا لیکن ہماری یہ سوچ چند گھنٹوں بعد ہی بدل گئی تھیں جب کشمیرسنگھ نے زیرولائن کراس کرتے ہی اپنا بیان بدل لیا۔

کشمیر سنگھ کو 1973ء میں اُس کے ایک ساتھی سمیت راولپنڈی سے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، فوجی عدالت نے کشمیر سنگھ کو سزائے موت جبکہ اُس کے ساتھی کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے انصار برنی نے کشمیرسنگھ کی رہائی کے لئے بہت کوشش کی جس میں وہ بالاآخر کامیاب ہوئے اور کشمیر سنگھ کو 3 مارچ 2008ء میں رہا کردیا گیا۔

کشمیرسنگھ نے دورانِ قید ہمیشہ خود کو بے گناہ قراردیا لیکن جیسے ہی اُس نے بارڈر پار کیا، اُس کا رویہ اور بیان بدل گیا۔ بھارت پہنچتے ہی کشمیر سنگھ نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں جاسوسی کے لئے گیا تھا اوراپنے مشن میں کامیاب ہوکر لوٹا ہے۔



 

رویندرا کوشک


رویندرا کوشک ایک ایسا بھارتی جاسوس تھا جو 25 برس تک پاکستان میں رہا، رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوا، جب انہیں بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھا، اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد اُسے نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ روندرا کوشک نے 23 سال کی عمر میں 1975ء میں 'را' میں شمولیت اختیار کی اور ریزیڈنٹ ایجنٹ کی تربیت لینے کے بعد پاکستان پہنچ گیا۔ کراچی میں گریجویشن کی، اردو سیکھی اور پھر یہیں شادی کی اور پاکستان آرمی میں شامل ہوگیا۔ وہ پاکستان افواج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوا اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمشنڈ افسر بن گیا اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچ گیا۔

پاکستانی فوج کے دل میں رہتے ہوئے بہت اچھا کام کررہا تھا، جب 1983ء میں ایک بھارتی ایجنٹ عنایت مسیحی کو اُس سے رابطے کے لئے بھیجا گیا تو یہ راز فاش ہوگیا اور نبی احمد شاکر کے نام سے جانا جانیوالا جاسوس پکڑا گیا۔ رویندرا کوشک کو گرفتاری کے بعد مختلف جیلوں میں 16 برس تک رکھا گیا اور 2001ء میں اُس کی موت جیل میں ہوئی، وہ ٹی بی اور شوگر کا مریض تھا۔ روندرا کوشک کو ابتداء میں موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد ازاں سزائے موقت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔



 

رام راج


2004ء میں لاہور میں گرفتار ہونے والا رام راج شاید واحد ایسا بھارتی جاسوس تھا جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگیا۔ اُسے 6 برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس بھارت پہنچا تو اُسے بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کردیا۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے اٹھارہ برس تک بھارت کے خفیہ اداروں میں کام کرچکا تھا، وہ خفیہ ایجنسی 'را' کے جاسوسوں کے لیے گائیڈ کا کام کرتا تھا۔ پاکستان میں 18 ستمبر 2004ء کو داخل ہونے والے رام راج کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے اگلے ہی دن دھر لیا تھا۔



 

بلویر سنگھ


بلویر نامی بھارتی جاسوس 1971ء میں پاکستان میں داخل ہوا اور 1974ء میں گرفتار ہوگیا۔ بلویر کو 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ 1986ء میں جب بلویر واپس بھارت گیا تو اُس نے اپنی خفیہ ایجنسی پر قید کے دنوں میں کسی بھی قسم کی مدد نہ کرنے کے سبب بھارتی عدالت میں مقدمہ درج کرادیا۔ عدالت نے بھارتی ایجنسی کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اُسے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جو کہ آج تک ادا نہیں کیا گیا۔

 

ست پال سنگھ


ست پال کو 1999ء میں بھارتی خفیہ ایجنسی نے کارگل جنگ کے زمانے میں پاکستان بھیجا، جہاں اُسے خفیہ اداروں نے گرفتار کرلیا تھا۔ ست پال ایک سال پاکستان کی جیل میں قید رہنے کے بعد بیماری کے باعث چل بسا، اُس کی میت واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت بھیج دی گئی تھی۔

 

سرجیت سنگھ


سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012ء میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس انڈیا پہنچا تو کشمیر سنگھ کے برعکس اس کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ دعویٰ کرتا رہا کہ وہ پاکستان میں 'را' کا ایجنٹ بن کر گیا تھا لیکن کسی نے اُس کی بات پر کان نہ دھرے۔ سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اُس نے کہا کہ بھارتی حکومت اِس کی غیر موجودگی میں اُس کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتی تھی جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ 'را' کا ایجنٹ تھا اور وہ گرفتاری سے پہلے 85 بار پاکستان کا دورہ کرچکا تھا جہاں وہ دستاویزات حاصل کرکے واپس لے جاتا تھا۔

سرجیت سنگھ کو 1985ء میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور فوجی عدالت نے اُسے 1989ء میں سزائے موت سنائی تھی۔ تاہم اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اُس کی رحم کی اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ سرجیت سنگھ لگ بھگ 30 سال پاکستان کی جیل میں گزار کر 73 سال کی عمر میں واپس بھارت لوٹ گیا۔





گربخش رام


گربخش رام کو 2006ء میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اُسے 18 سال تک پنجاب کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ گربخش رام کو 1990ء میں اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جارہا تھا لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گیا۔

بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اُن کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو دی گئی تھیں۔ گربخش رام نے اُس وقت مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل سے ملاقات کرکے سرکاری نوکری کی درخواست کی مگر اُسے یہ بھی نہ مل سکی۔



 

ونود سانھی


ونود سانھی 1977ء میں پاکستان میں گرفتار ہوا اور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد اسے 1988ء میں رہائی ملی۔ ونود سانھی نے اب بھارت میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے 'جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن' نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ ونود سانھی ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا، اُسے بھارتی خفیہ ایجنسی نے سرکاری ملازمت کا جھانسہ دیکر پاکستان جاسوسی کے لئے بھیجا مگر ونود سانھی یہاں گرفتار ہوگیا۔ کئی سال سزا کاٹنے کے بعد جب بھارتی جاسوس ونود سانھی واپس لوٹا تو بھارتی حکومت اور خفیہ ایجنسی نے اُس کی کوئی مدد نہیں کی۔



 

شیخ شمیم


بھارتی خفیہ نیٹ ورک کے ایک اور کارندے شیخ شمیم کو 1989ء میں پاکستانی حکام نے گرفتار کیا۔ شیخ شمیم کو پاک بھارت سرحد کے قریب سے گرفتارکیا گیا تھا اور اُس سے ٹرانسمیٹرسمیت ملٹری سے متعلقہ کئی دستاویز بھی برآمد کی گئیں۔ شیخ شمیم پہلا بھارتی جاسوس تھا جسے 1999ء میں پھانسی دی گئی۔

 

سنیل مسیح


سنیل مسیح کا تعلق گورداسپور کے نواحی گاؤں دادوان سے ہے۔ اُسے 1999ء میں گرفتارکیا گیا۔ سنیل مسیح نے سات سال پاکستان کی پانچ مختلف جیلوں میں سزا کاٹی اور پھر 2007ء میں اُسے 17 بھارتی قیدیوں سمیت رہا کردیا گیا اور سنیل مسیح واہگہ بارڈر کے راستے ہنستا مسکراتا واپس چلا گیا۔ سنیل کو بھارتی حکام کی طرف سے لاتعلقی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ آج تک بھارتی حکومت کو کوستا رہتا ہے۔

 

ڈیوڈ مسیح


بھارتی جاسوس ڈیوڈ پہلی بار جولائی 1993ء میں پاکستان آیا اور یہاں گرفتارہوگیا۔ ڈیوڈ مسیح نے خود اعتراف کیا تھا کہ اُسے ہر اسائمنٹ کے 3 ہزار روپے ملتے تھے، ڈیوڈ مسیح کو 2006ء میں سزا مکمل ہونے پر واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت بھیجا گیا۔ ڈیوڈ مسیح کو بھی اب بھارت سے یہ شکایت ہے کہ جس ملک کے لئے وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر جاسوسی کرتا رہا اور واپس لوٹنے پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے پوچھا تک نہیں۔



(سنیل اور ڈیوڈ مسیح)

 


ڈینئیل مسیح


ڈینئیل مسیح نے ایک بھارتی جریدے کو دئیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کے لئے سات مرتبہ پاکستان گیا۔ 1993ء میں ڈینئیل کو غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔ ڈینئل کو 4 سال کی سزا سنائی گئی اور سیالکوٹ کی گورا جیل میں رکھا گیا، لیکن پھر اُسے بھی دیگر بھارتی قیدیوں سمیت 1997ء میں رہا کردیا گیا۔



نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔




اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔

مقبول خبریں