لاہور ہائیکورٹ کا چارواں صوبوں میں بجلی کی یکساں لوڈ شیڈنگ کرنے کا حکم

کسی بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیاجاناچاہیے ، لوڈشیڈنگ مساوی بنیادوں پر کی جائے،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ


Numainda Express July 31, 2012
کسی بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیاجاناچاہیے ، لوڈشیڈنگ مساوی بنیادوں پر کی جائے،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ ۔ فوٹو ایکسپریس

KARACHI: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے چاروں صوبوں میں بجلی کی یکساں لوڈشیڈنگ کا حکم جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ کسی بھی صوبے کیساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور لوڈشیڈنگ مساوی بنیادوں پر کی جائے۔ عدالت نے سحر و افطار کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دائر درخواست پر وزارت پانی و بجلی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو 8 اگست کیلئے نوٹسزجاری کردیئے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیا ل نے گزشتہ روز سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ اور دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بتایاکہ دوسروں صوبوںمیں بجلی کی چوری پنجاب سے زیادہ ہے جبکہ وصولی دیگر صوبوں میں پنجاب سے کم ہے مگر اس کے باوجود پنجاب کیساتھ امتیازی سلوک جاری ہے اور وصولیاں نہ ہونے سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کوبتایاکہ پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن کی بجلی کی غیر مساوی لوڈشیڈنگ کے معاملہ پر مستعفی ہونے کی دھمکی بھی امتیازی سلوک کا ایک اہم ثبوت ہے۔ درخواست گزار نے مزید موقف اختیار کیا کہ صوبہ پنجاب میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ کراچی میں صرف2 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔

اس پر جناب چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کے ای ایس سی بجلی فراہم کرتی ہے اور وہ خود بجلی پیدا کرتی ہے اس میں محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے جوابا کہا کہ کے ای ایس سی پیپکوسے اپنی پیداوار سے زیادہ بجلی خریدتی ہے اور ملک میں سب سے زیادہ بجلی صوبہ پنجاب پیدا کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکلر ڈیٹ بڑھ رہا ہے اس کی وجہ لائن لائسز ہے۔

اظہر صدیق نے مزید بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سب سے زیادہ بجلی چوری خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں ہوتی ہے اور وہاں لائن لائسز بھی زیادہ ہیں جبکہ پنجاب میں لائن لاسز کم ہیں، بجلی کی چوری روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس میں صارفین کا کیا قصور ہے وہ تو بجلی کے بل وقت پر ادا کرتے ہیں، سر کلر ڈیٹ وفاقی حکومت نے اتارنا ہے جبکہ عوام سے فیول ایڈجسٹمنٹ کی شکل میں اربوں روپے حکومت لئے جاتے ہیں ،

حکومت اپنی شاہ خرچیاں بند کر دے تو بجلی کا بحران ختم ہو سکتا ہے، عوام سے نیلم، جہلم ڈیم کیلئے تقریباً چھبیس ارب روپے حکومت وصول کر چکی ہے اور اس پراجیکٹ پر کچھ نہیں کیا، ہر مہینے کرڑوں روپے تنخواہوں ایڈمنسٹریشن کی مدد میں خرچ ہو جاتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت یہ مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے اس پر محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے اور اس عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ امتیازی سلوک ختم کرے ۔ عدالت نے تفصیلی بحث سننے کے بعد صارفین کو یکساں بجلی کی فراہمی اور تعطل 8 اگست تک فراہم کرنیکا حکم دیدیا۔