سندھ ہائیکورٹ ایکسائز اور پولیس میں بھرتیاں روکنے کا حکم

ایکسائز میں ای ٹی او اور پولیس میں اے ایس آئی کی اسامیوں پر بھرتیوں کیخلاف حکم امتناع۔


Staff Reporter January 23, 2013
سندھ پبلک سروس کمیشن سے تقرری کا اختیار واپس لینے کا حکم کالعدم قرار اور پولیس آرڈر2002کی منسوخی کو بھی غیر قانونی قراردیا جائے، درخواست گزار کا موقف۔ فوٹو: فائل

لاہور: سندھ ہائیکورٹ نے منگل کو محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور محکمہ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹروں کی اسامیوں پر تقرری کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

محکمہ ایکسائز اور محکمہ پولیس میں تقرریوں کے خلاف علیحدہ علیحدہ درخواستیںدائر کی گئی تھیں ،دونوں کی سماعت جسٹس فیصل عرب اور جسٹس نثار احمد شیخ پر مشتمل دورکنی بینچ نے کی ، فاضل بینچ نے محکمہ ایکسائز میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر(ای ٹی اوگریڈ 17)کی تقرریوں کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری،محکمہ سروسزاور محکمہ ایکسائز سمیت دیگر کو27 فروری کیلیے نوٹس جاری کردیے۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک محکمہ ایکسائز میں ''ایکسائز اینڈٹیکسیشن افسر کے عہدے پر کوئی تقرری نہ کی جائے، حکومت سندھ کے گرڈید 17کے افسر غلام نبی مہر کی جانب سے دائرکردہ آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ 2000-01میں گورنر کے پروٹوکول افسر تھے، بعد ازاں انھیں سرپلس پول میں شامل کردیا گیا،ایکسائز اینڈٹیکسیشن افسر کی خالی اسامی پر تقرری کیلیے درخواست گزار نے محکمہ سروسز سے این او سی کے حصول کیلیے درخواست دی مگر درخواست پر عمل درآمد نہیں ہوا۔



بعد ازاں محکمہ سروسز سے دوبارہ رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ محکمہ ایکسائز کی یہ اسامیاں گریڈ17کی ہیں جس پر تقرری صرف سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہی عمل میں آسکتی ہے، اور ان اسامیوں کی تقرری کیلیے سندھ پبلک سروس کمیشن سے سفارش کی جاچکی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسد ابڑو سمیت گریڈ17کے2افسران کواگست 2012میںان اسامیوں پر تقرری دی گئی جو کہ سرپلس پول میں شامل تھے،ان سامیوں پر ایڈہاک تقرریوں کاسلسلہ جاری ہے مگر درخواست گزار کو تقرری نہیں دی جارہی جبکہ درخواست گزار تمام مطلوبہ شرائط پر پورا اترتا ہے۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو 27فروری کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی فی الحال ان اسامیوں پر کوئی تقرری نہ کی جائے، محکمہ پولیس میں 700اسسٹنٹ سب انسپکٹرز(اے ایس آئی) کی تقرریوں کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری،محکمہ داخلہ،آئی جی سندھ اور دیگر کو 15فروری کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تا حکم ثانی اے ایس آئی کے عہدے پر تقرریاں نہ کی جائیں، ذاکرعلی کے جانب سے درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہے کہ محکمہ پولیس میں اے ایس آئی کی 700اسامیوں پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تقرریوں کیلیے 9جون 2011کو اخبارات میں اشتہارات شائع کیے گئے۔

درخواست گزار نے 500روپے کے چالان کے ساتھ درخواست جمع کرائی،تقرریوں کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا،درخواست گزار انٹرویوکال کا انتظار کررہاتھا تاہم15جولائی2011کوپولیس آرڈر 2002کو منسوخ کردیا گیا اور سندھ اسمبلی میں ''سندھ ایکٹXXIIمنظورکرتے ہوئے پولیس ایکٹ 1861 بحال کردیا گیاجو کہ پولیس آرڈرکی دفعہ184کی بھی خلاف ورزی ہے، مذکورہ دفعہ کے تحت اس قانون کی منسوخی کیلیے وزیراعظم کی منظوری لازمی ہے۔

بعدازاں یہ اصولی فیصلہ کیا گیا کہ اے ایس آئی کے عہدے پر تقرریاں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہی کی جائیں گی تاہم 4 اکتوبر 2012کومحکمہ داخلہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن سے یہ اختیار واپس لے لیا، سندھ پبلک سروس کمیشن سے تقرری کااختیار واپس لینے کا عمل بدنیتی پرمبنی ہے تاکہ نااہل،بااثراور من پسند افراد کا تقرر کیا جاسکے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن سے تقرری کا اختیار واپس لینے کا حکم کاالعدم قراردیا جائے،پولیس آرڈر2002کی منسوخی کو غیر قانونی قراردیا جائے اور اے ایس آئی کی اسامیوں پرسندھ پبلک سروس کے ذریعے تقرری کی جائے۔