پاکستان مخالف مظاہروں نے آئی سی سی کی نیندیں اڑا دیں

کونسل اور بی سی سی آئی کا وفد اڑیسہ پہنچ گیا،ایئرپورٹ سمیت اہم مقامات پر مظاہرین کی نعرے بازی۔


Sports Desk January 23, 2013
بی جے پی لیڈر ایونٹ آرگنائزنگ کمیٹی سے دستبردار، معاملات قابو میں نہ آئے تو ویمنز ورلڈ کپ کو ملتوی اور بھارت سے منتقل کر دیا جائے گا، ذرائع کا دعویٰ فوٹو: فائل

بھارت میں پاکستان مخالف مظاہروں نے آئی سی سی کی نیندیں اڑادیں، کونسل اور بی سی سی آئی کا وفد اڑیسہ پہنچ گیا۔

ان کی موجودگی میں ایئرپورٹ سمیت اہم مقامات پر مظاہرین نعرے بازے کرتے رہے، بجرنگ دل نے جمعرات کو کٹک میں ہڑتال کا اعلان کردیا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر پاکستانی ویمنز ٹیم نے ہماری زمین پر قدم رکھا تو پھر نتائج کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ بی جے پی لیڈر کے وی سنگھ دیو ایونٹ آرگنائزنگ کمیٹی سے دستبردار ہوگئے، سینئر رہنما ارون جیٹلی نے اپنا دورہ منسوخ کردیا۔ ادھر اڑیسہ کے اسپورٹس سیکریٹری آئی سری نواسن کا کہنا ہے کہ آئی سی سی پاکستانی ویمنز ٹیم کے میچز بارہ بتی اسٹیڈیم میں منعقد کرنا چاہتی ہے۔

اسٹیٹ حکومت سے لاجسٹک سپورٹ بھی مانگ لی گئی، ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سورو نائیک نے کہاکہ مقامی حکومت نے ہمیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلادیا ہے، دریں اثنا ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگر حالات برقرار رہے تو ایونٹ ملتوی کرنے کیساتھ اسے بھارت سے بھی منتقل کر دیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی ویمنز ٹیم کیخلاف بڑھتے مظاہروں نے آئی سی سی کو سخت پریشان کر دیا ہے، ویمنز ورلڈ کپ کے قریب آتے ہی منتظمین کی بے چینی بڑھنے لگی، جب سے پاکستانی ویمنز ٹیم کے میچز کٹک منتقل کیے جانے کا اعلان ہوا وہاں پر مسلسل مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ روز آئی سی سی و بی سی سی آئی کا وفد بھوبنسور پہنچا اور اعلیٰ آفیشلز سے ملاقاتیں کیں۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسٹیٹ اسپورٹس سیکریٹری آئی سری نواسن نے کہا کہ آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے وفد نے ہم سے ملاقات کی اور اسٹیٹ گورنمنٹ کی لاجسٹک سپورٹ مانگی، وہ پاکستانی ویمنز ٹیم کے میچز بارہ بتی اسٹیڈیم میں منعقد کرنا چاہتے ہیں، وفد نے وزیر داخلہ یو این بیہیرا اور ڈی جی پی پرکاش مشرا سے بھی ملاقات کی اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، پھر یہ وفد کٹک پہنچا جہاں پر اس نے بارہ بتی اسٹیڈیم کا معائنہ کیا۔ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سورونائیک نے کہا کہ اسٹیٹ حکومت کی جانب سے ورلڈ کپ کیلیے سپورٹ بڑھانے پر ہم مطمئن اور شکرگزار ہیں۔



اڑیسہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر رانجیب بسوال نے کہاکہ حکومت نے پاکستانی ویمنز پلیئرز کیلیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے وفد کے دورے کے دوران بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا، جب یہ وفد بھوبنسور پہنچا اس وقت بھی ایئرپورٹ پر استقبال بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی کے مظاہرین نے کیا، اس موقع پر ایک مقامی لیڈر نے کہا کہ ہم بی سی سی آئی اور اڑیسہ کی حکومت کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہیں کہ وہ یہاں پر پاکستانی ٹیم کی میزبانی سے باز رہیں ورنہ نتیجے کے خود ذمہ دار ہونگے، ہم یہاں کسی صورت پاکستانی پلیئرز کو کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ بجرنگ دل اور اٹکل بھارت کی جانب سے کٹک اور بھوبنسور کے مختلف مقامات پر مظاہرے کیے گئے جن میں پولیس کمشنر ہیڈکوارٹرز اور وہ مخصوص ہوٹل بھی شامل ہیں۔

جن میں ٹیموں کے رہائش پزیر ہونے کی توقع ہے۔ پولیس نے 10 مظاہرین کو بھی اپنی حراست میں لے لیا۔ بجرنگ دل نے پاکستانی ویمنز ٹیم کی آمد کیخلاف جمعرات کوکٹک میں24 گھنٹوں کی ہڑتال کا اعلان کردیا،ایک اور مقامی ہندو انتہا پسند ٹولے اٹل بھارت نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کٹک میں کھیلے جانے والے 11 میچز کی ٹکٹیں فروخت نہیں کی جائیں گی، آئی سری نواسن کا کہنا ہے کہ اڑیسہ کرکٹ ایسوسی ایشن دونوں اسٹیڈیمز پر تماشائیوں کو خصوصی پاس جاری کریگی۔

پاکستانی ویمنز ٹیم کی 27 جنوری کو کٹک آمد متوقع ہے جہاں وہ 28 اور 29 کو بارہ بتی اسٹیڈیم میں اڑیسہ ویمنز کرکٹ ٹیم سے پریکٹس میچز بھی کھیلے گی،31 جنوری کو اس کا ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں آسٹریلیا سے سامنا ہوگا۔ دریں اثنا بی جے پی کے رہنما سنگھ دیو ویمنز ورلڈ کپ کی مقامی آرگنائزنگ کمیٹی سے الگ ہوگئے، ان کا کہنا ہے کہ میرا نام بغیر پوچھے کمیٹی میں ڈالا گیا تھا جبکہ ان کے ایک اور ساتھی سمیر دیو نے کمیٹی چھوڑنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

سمیر نے انکشاف کیا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بھارتی بورڈ میں نائب صدر ارون جیٹلی کو بھوبنسور کا دورہ کرنا تھا مگر یہاں پر مظاہروں کی وجہ سے انھوں نے اسے منسوخ کردیا۔ دریں اثنا ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگر حالات برقرار رہے تو ایونٹ ملتوی کرنے کیساتھ اسے بھارت سے بھی منتقل کر دیا جائیگا، قبل ازیں سری لنکا اور یو اے ای کے نام سامنے آ چکے ہیں۔