تنخواہیں نہ ملنے پر بلدیاتی ملازمین سراپا احتجاج پولیس کا لاٹھی چارج 27 مظاہرین گرفتار

پولیس نے کچرا اٹھانے والے8 ٹرک قبضے میں لے لیے، عید سر پر ہےمگر ابھی تک ماہ جون کی تنخواہ نہیں ملی


Staff Reporter August 01, 2012
تنخواہ کی عدم ادائیگی پرسراپااحتجاج بلدیاتی ملازمین کو پولیس نے گورنر ہائوس جانے سے روکنے کیلیے آنسو گیس فائر کیے ہوئے ہیں ،دوسری جانب ملازمین کو گرفتار کیاجارہا ہے۔ فوٹو ایکسپریس

کے ایم سی اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے ملازمین نے تنخواہیں نہ ملنے پر کراچی پریس کلب پر احتجاج کیا اور گورنر ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلیے فوارہ چوک کے قریب لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، مظاہرین نے کچرا اٹھانے والا ٹرک واٹر کینن سے ٹکرا دیا جس کے باعث اس سے پانی نکلنا بند ہو گیا۔

پولیس نے املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں27 ملازمین کو گرفتار کرکے کچرا اٹھانے والے8 ٹرک قبضے میں لے لیے، احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ عید سر پر ہے مگر انھیں اب تک ماہ جون کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہیں ، انھوں نے گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں ، تفصیلات کے مطابق کے ایم سی کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کے ایم سی ملازمین کو ابھی تک ماہ جون کی تنخواہ نہیں ملی، مظاہرین نے بتایا کہ 23 جون کو وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کے ایم سی ملازمین کیلیے 50 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ملازمین کو 3 دن میں تنخواہیں مل جائیں گی تاہم تاحال کے ایم سی کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں، مظاہرین نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے صرف کے ایم سی کے ملازمین کیلیے گرانٹ منظور کی تھی اس میں ٹاؤن میونسپل کمشنر کے ماتحت کام کرنے والے ملازمین کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جولائی کا مہینہ ختم ہونے کو ہے لیکن ابھی ملازمین کو جون کی تنخواہ بھی نہیں ملی جبکہ اگلے مہینے یعنی اگست میں عید آرہی ہے، مظاہرین ریلی کی صورت میں کراچی پریس کلب سے گورنر ہاؤس جارہے تھے کہ فوارہ چوک کے قریب پولیس نے مظاہرین کو بتایا کہ وہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں تاہم مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا۔

مظاہرین نے کے ایم سی کا ٹرک پولیس کی واٹر کینن ٹرک سے ٹکرا دیا جس کے باعث واٹر کینن نے فوری طور پر کام کرنا چھوڑ دیا اور اس سے مظاہرین پر پانی پھینکنے کا سلسلہ بند ہو گیا، پولیس نے آنسو گیس کے استعمال کے بعد فرار ہونے والے کے ایم سی کے 27 ملازمین کو حراست میں لے کر ان کیخلاف بجرم دفعہ 147، 186 اور341 کے تحت ایف آئی آر نمبر 84/12 درج کر لی جبکہ کے ایم سی کے کچرا اٹھانے والے 8 ٹرک بھی قبضے میں لے لیے، مظاہرین نے گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ ان کی 3 ماہ کی تنخواہوں کیلیے گرانٹ دی جائے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ شارع فیصل، سی ایم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے باہر شاہراہ پر کچرا پھینک کر احتجاج کریں گے۔