سانحہ بلدیہ کا مقدمہ واپس لینے پر گورنر کا صدر وزیراعظم کو فون

کیس اس طرح واپس نہیں لیا جاسکتا، تمام قانونی تقاضے یقینی بنائے جائیں، عشرت العباد


Staff Reporter January 24, 2013
وزیراعظم کی ہدایت پر دفعہ 302واپس لے لی گئی، مانڈوی والا، چالان مکمل ہوچکا، نئے تفتیشی افسر فوٹو: فائل

سانحہ بلدیہ بلدیہ فیکٹری کیس کی واپسی کی اطلاع پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے فوری طور پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجا پر ویز اشرف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ۔

گورنر نے وزیراعظم کو کیس کے قانونی پہلوئوں سے آگاہ کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ کیس اس طرح ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ گورنر نے کیس میں تمام قانونی تقاضے یقینی بنانے اور انصاف کی فراہمی پر زور دیا ۔ انھوں نے کہا کہ لواحقین کی ہر صورت داد رسی کی جائے گی ۔ دریں اثناء گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے آئی جی پولیس سندھ کو ہدایت کی کہ کیس میں پیش رفت تیز کی جائے اور تمام قانونی تقاضے پو رے کیے جائیں ۔ انہوں نے کیس کو میرٹ پر حل کرنے ، انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور لواحقین کی داد رسی یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔

دوسری جانب پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ سانحہ بلدیہ کا حتمی چالان 5 جنوری کو عدالت میں پیش کردیا گیا ہے جس کے بعد تفتیشی افسر کا کام مکمل ہوجاتا ہے تاہم تفتیشی افسر نے تبادلہ رکوانے کے لیے میڈیا کے بعض افراد کو گمراہ کیا۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق وزیرمملکت سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری کے مالکان کیخلاف دفعہ 302کے تحت درج کیا گیا مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے اس سانحے میں 259افراد جھلس کر جاں بحق ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ فیکٹری مالکان کیخلاف مقدمہ وزیراعظم کی ہدایت پر واپس لیا گیا راجا پرویز اشرف نے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر عہدیداروں سے وعدہ کیا تھا کہ مقدمہ واپس لے لیا جائے گا۔

 

4

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پہلے حادثے کا مقدمہ درج کر کے کی تحقیقات کی جائے اگر صرف حادثے پر قتل کے مقدمے درج کیے جاتے رہے تو کاروبار کون کرے گا۔دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن منظور مغل کی ہدایت پر سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مقدمے کی تفتیش سائٹ بی تھانے کے سب انسپکٹر اورنگ زیب سے واپس لے لی گئی اور ایس ڈی پی او اورنگی ٹاؤن ڈی ایس پی زاہد حسین کو منتقل کر دی اس سلسلے میں ڈی ایس پی زاہد حسین نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے اس کا حتمی چالان سب انسپکٹر جہانزیب نے عدالت میں پیش کر دیا۔

انھوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق حتمی چالان جمع کرنے کے بعد مقدمے سے کوئی دفعہ نہیں نکالی جا سکتی انھوں نے بتایا کہ مقدمے کی تفتیش میں اگر کوئی کمی بیشی رہ گئی ہو گی تو وہ اس سلسلے میں تفتیش کریں گے ، ڈی ایس پی زاہد حسین نے بتایا کہ بدھ کی رات گئے تک انہیں مقدمے کی فائل نہیں ملی تھی۔ جمعرات کو فائل ملنے کے بعد وہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا جائزہ لیں گے کہ تفتیش کس سمت میں کرنی ہے۔

دریں اثنا متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے بھی سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین کے کیس واپس لینے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرعتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے سانحے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اور ذمے داروں کا انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ رات گئے وزیر مملکت صنعت مانڈوی والا نے اسی نجی ٹی وی پر اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ مقدمہ واپس لے لیا گیاہے، سانحے کی تحقیقات میرٹ پر ہوگی مقدمہ واپس نہیں لیا جائے گا۔