بدلتی سیاسی وفاداریاں

صدر مملکت آصف علی زرداری کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات وقت پر اور منصفانہ طور پر کرائیں گے


Muhammad Saeed Arain January 24, 2013

موجودہ اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے کے قریب ہے اور موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی نے اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا شروع کردی ہیں۔ بہت سوں نے اپنی سیاسی پارٹیاں تبدیل کرلی ہیں اور ممکن ہے دیگر بھی تبدیلی کا ذہن بنا چکے ہوں۔ عام انتخابات کے انعقاد سے قبل بڑی تعداد میں سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کی خبریں گرم ہیں، سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی، اپنی پارٹیوں سے بے وفائی کا عمل سوا سال قبل لاہور میں عمران خان کے کامیاب جلسے سے کچھ تیز ہوا تھا اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے بیزار سیاسی رہنماؤں نے بڑی توقعات کے ساتھ تحریک انصاف کی چھتری تلے پناہ تلاش کرلی تھی۔

موجودہ حکومت کو بڑا فخر ہے کہ وہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر رہی ہے اور صدر مملکت آصف علی زرداری کا دعویٰ ہے کہ وہ عام انتخابات وقت پر اور منصفانہ طور پر کرائیں گے مگر اپنی حکومت کے 5 سال مکمل ہونے کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکے گا۔

ملک کی سابق حکمراں دو بڑی پارٹیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اقتدار میں ہیں اور دونوں پارٹیوں میں موجود سیاسی رہنماؤں کی اکثریت نے برسر اقتدار پارٹیوں سے بھرپور فائدے اٹھائے ہیں اور گزشتہ 3 عشروں سے دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت پارٹیاں تبدیل کرتی آئی ہیں۔ بہت کم سیاسی رہنما ایسے ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی کبھی تبدیل نہیں کیں اور وہ اپنی پارٹی قیادت سے وفاداری نبھاتے آرہے ہیں۔ ایسے سیاسی رہنماؤں کو اصول پرست کہا جاتا ہے۔ ان رہنماؤں میں ایسے بھی ہیں جو اپنی پارٹی قیادت سے نالاں بھی ہیں، مگر کسی مجبوری کے باعث وہیں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کے نظریے اور اصول کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے بلکہ ان کی سیاسی مجبوریاں ایسی ہیں کہ وہ پارٹی تبدیل نہیں کررہے۔ موجودہ سیاسی رہنماؤں میں مخدوم جاوید ہاشمی کے مسلم لیگ چھوڑ دینے پر بڑی حیرت کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے عملی سیاست کا آغاز مسلم لیگ سے کیا تھا مگر وہ مجبور کردیے گئے اور تحریک انصاف میں آگئے اور ان کے لیے پیپلز پارٹی میں شامل ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔

جاوید ہاشمی جیسے مسلم لیگی کیوں تیسری پارٹی میں جانے پر مجبور ہوئے اس کی ایک اہم وجہ سیاسی پارٹیوں کے وہ قائدین ہیں جنہوں نے اپنی پارٹیوں میں شخصی آمریت قائم کر رکھی ہے اور حقیقت میں یہ پارٹیاں ان کی ذاتی ملکیت ہیں جن میں رہنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کو اپنے نظریات اور اصولوں سے زیادہ پارٹی قیادت کے اعتماد کو ترجیح دینا پڑتی ہے اور اپنے قائد کی ہر بات پر لبیک کہنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے قائد سے اختلاف کی جرأت نہیں رکھتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور رہتے ہیں اور ان کی کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی قائد سے زیادہ سے زیادہ وفاداری ثابت کریں تاکہ ان کی قیادت ان پر مہربان رہے۔ ہر ممکن کوشش اور وفاداری دکھانے کے باوجود قائد ان کی کسی بات پر ناراض ہوجائے تو اس رہنما کے مخالفین کو بھی موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنے قائد کو مذکورہ رہنما کے خلاف بھڑکا کر دونوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیتے ہیں۔ بعض سیاسی رہنماؤں کو اپنے قائد سے شکایتیں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ وہ سیاسی وفاداری بدلنے پر مجبور کردیے جاتے ہیں اور انھیں مجبور ہوکر اس مخالف پارٹی میں شامل ہونا پڑتا ہے جس کے وہ شدید مخالف رہے ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک مثال مسلم لیگ ن کی ہے جس نے صرف سردار ذوالفقار کھوسہ کو منایا اور باقی ناراض رہنماؤں کی ناراضگی پر توجہ نہ دی۔ اگر جاوید ہاشمی کی شکایات دور کردی جاتیں تو وہ آج بھی مسلم لیگ میں رہتے۔اس کے برعکس صدر آصف علی زرداری نے یہ ریکارڈ قائم کیا ہے کہ انھوں نے 5 سال میں مولانا فضل الرحمن کے سوا اپنے کسی اتحادی کو علیحدہ ہونے نہیں دیا۔ میاں مسلم لیگ ن سے شکایات کے باعث حال ہی میں جہلم کے بااثر راجہ ناراض ہوکر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ضمنی انتخابات میں غلط لوگوں کو ٹکٹ دیے جس کی سزا وہاں کے عوام نے (ن) لیگی امیدوار کو مسترد کرکے دی اور (ن) لیگ اپنے غلط فیصلوں کے باعث اپنی ہی کئی نشستیں ہارگئی اور مسلم لیگ ن کا جادو وہاں نہ چل سکا مگر پھر بھی اس نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔لیجیے، جنوبی پنجاب صوبہ کی مخالفت پر ن لیگ کے ایم این اے سیف کھوسہ بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض سیاسی رہنما اپنے مفادات پورے نہ ہونے، عہدے اور وزارتیں نہ ملنے پر اپنی قیادت سے ناراض رہتے ہیں۔ بعض رہنماؤں نے انتخابی ٹکٹ نہ ملنے پر اپنی پارٹیاں چھوڑیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ انھیں ہی ہمیشہ امیدوار بنایا جائے اور دوسروں کو آگے آنے کا موقع نہ ملے۔ نواز شریف کے مقابلے میں صدر آصف علی زرداری نوازنے میں سب سے زیادہ فیاض ثابت ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے کسی اصول کو نہیں دیکھا، ان کے ماضی کا مخالف بھی اپنی پارٹی چھوڑ کر ان کی طرف آیا انھوں نے فوراً مشیر بناکر اسے نواز دیا جس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

مسلم لیگ ن نے اپنے خود ساختہ اصول پر چوہدریوں پر تو اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں مگر (ق) لیگ چھوڑ کر (ن) لیگ میں آنے والوں کے لیے دروازے کھول رکھے ہیں۔ تحریک انصاف کا بھی کوئی اصول مقرر نہیں، ان کے دروازے ہر پارٹی سے آنے والوں کے لیے مکمل طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ جب کسی پارٹی میں شامل ہونے والوں کے لیے کوئی اصول مقرر نہیں ہوگا، یہ آنا جانا لگا رہے گا اور سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا جس کے نتیجے میں وہی پرانے سیاسی چہرے یا ان کے صاحبزادے اور عزیز مختلف پارٹیوں کے ذریعے اقتدار میں آتے رہیں گے اور موروثی سیاست کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اصول اور نظریے کے بجائے سیاسی و ذاتی مفادات کے لیے اپنی پارٹی چھوڑنے والے کو دوسری پارٹی فوراً گود میں بٹھا لیتی ہے، اگر یہ سلسلہ بند ہوجائے تو سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی میں کچھ کمی آسکتی ہے۔

مقبول خبریں