خسرہ کا مخصوص علاج موجود نہیں عالمی ادارہ صحت

غذائی کمی کا شکار بچوں میں خسرہ کے باعث پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں،ماہرین طب


Staff Reporter January 25, 2013
غذائی کمی کا شکار بچوں میں خسرہ کے باعث پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں،ماہرین طب

عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ کا کوئی مخصوص علاج نہیں، ایسے بچے جو غذائی کمی کا شکار ہوں اوران کی قوت مدافعت کمزور ہو ان میں خسرہ کے باعث شدید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

یہ بات آغاخان اسپتال میں خسرہ کے مرض پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے بتائی،آغا خان یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی ایک 4 رکنی ٹیم نے خسرہ سے متاثرہ اضلاع کا دورہ کیاہے اور مقامی انتظامیہ کو طبی معاونت فراہم کی، دریں اثنا ماہر امراض اطفال ڈاکٹرعلی فیصل سلیم نے کہاکہ متاثرہ خاندانوں سے رابطے کے دوران ہم نے انھیں مشورہ دیا کہ اگر بخارکے ساتھ بچے کے جسم پرسرخ نشانات ظاہر ہوں یاخسرہ کا شبہ ہو تو وہ فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔



انفیکشن ہونے کے 10سے 12 دن بعد جو ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں تیز بخار، ناک بہنا، آنکھوں میں سرخی اور منہ میں باریک باریک سفید دھبے ظاہر ہونا شامل ہیں، خسرہ کا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اورچھونے سے منتقل ہوتا ہے اس لیے والدین کو خسرہ سے متاثرہ بچے کودوسرے بچوں سے علیحدہ رکھنا چاہیے خصوصاً وہ جن کی عمر ایک سال سے کم ہے، ڈاکٹر انیتا زیدی نے خسرہ کی وبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ باعث شرمندگی ہے کہ آج کے جدید دور میں پاکستانی بچے ایک ایسی بیماری کے باعث ہلاک ہورہے ہیںجس سے تحفظ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے ممکن ہے۔

انھوں نے عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ خسرہ کاکوئی مخصوص علاج نہیں اور زیادہ تر افراد دو سے تین ہفتے میں خود ہی صحتیاب ہوجاتے ہیں تاہم ایسے بچے جو غذائی کمی کا شکار ہوں اور ایسے افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہو ان میں خسرہ کے باعث شدید پیچیدگیاںپیداہوسکتی ہیں۔