47ارب ٹیکس چوریموبائل فون کمپنیوں ودیگر سے تفصیلات طلب

تین روز میں خطوط کی تفصیلات دی جائیں،برجیس طاہر،چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی


Numainda Express August 01, 2012
تین روز میں خطوط کی تفصیلات دی جائیں،برجیس طاہر،چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی۔ فائل فوٹو

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے 47 ارب روپے ٹیکس چوری کے تنازع پر ایف بی آر کے چیئرمین ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین ، وفاقی سیکریٹری آئی ٹی ، وزارت قانون اوردیگر متعلقہ حکام کو آئندہ اجلاس میں وضاحت کے لیے طلب کرلیا ہے اورہدایت کی ہے کہ تینوں افسران 7 اگست کو کمیٹی کے سامنے خود پیش ہوں۔

اس ضمن میں کمیٹی کا اجلاس منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین برجیس طاہر کی زیر صدارت ہوا جس میں اراکین انوشہ رحمان ، شفقت بلوچ ، پی ٹی اے ، وزارت آئی ٹی کے حکام اور موبائل فون کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے 47 ارب کی ٹیکس چوری کے تنازع پر پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کی جانب سے کوئی کردار ادا نہ کرنے اور خاموش تماشائی بنے رہنے پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور ریمارکس دیے کہ یہ کیسا ملک ہے جس میں سرمایہ کاروں سے جبراً دہرا ٹیکس لیا جارہا ہے۔

اس معاملے پر کوئی ادارہ ذمے داری قبول نہیں کر رہا، وزارت آئی ٹی قابل ترس ہے جس کا چار سالوں سے کوئی وزیر ہی نہیں، اس عرصے میں پانچ سیکریٹری تبدیل کردیے گئے،وزارت آئی ٹی نے عوام کے ساتھ مذاق بنا رکھا ہے کوئی ادارہ جوابدہ نہیں اراکین کمیٹی نے پی ٹی اے کو ختم کر کے وزارت آئی ٹی میں ضم کرنے کی سفارش کی، کمیٹی نے ٹیکس چوری تنازع پر موبائل فون کمپنیوں اور پی ٹی اے کے درمیان خط وکتابت کی تمام تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ تین دنوں میں یہ تفصیلات کمیٹی کو بھجوادی جائیں۔

کمیٹی کو موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے بتایا گیا کہ کمپنیاں پورا ٹیکس دے رہی ہیں مالی سال 2011-12 میں کمپنیوں نے 125ارب روپے ٹیکس ادا کیا ہے 47 ارب روپے کی ٹٰیکس چوری کا معاملہ موبائل فون کمپنیوں کو ہراساں کرنے کے لیے اچھالا گیا حالانکہ ایسی کوئی بات سرے سے ہی نہیں ہے، یہ انٹر کنیکٹ چارجز کا معاملہ ہے جو موبائل فون کمپنیوں سے دوہرے ٹیکس لگا کر وصول کرنے کی کوشش ہے ۔

پی ٹی اے کے قواعد اور حکومت کے وضع کردہ قانون کے تحت یہ ٹیکس بنتا ہی نہیں اور کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انٹرکنیکٹ چارجز پر دو بار ٹیکس وصول کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موبائل فون کمپنیوں کو اس قدر ہراساں کیا گیا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ نیب کسی بھی وقت موبائل فون کمپنیوں کے حکام کو گرفتار کر لیں گے اس لیے ہم نے وزیر اعظم کو خط لکھا اور انہیں معاملے سے آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ایف بی آر نے بجٹ سے پہلے ہم پر دبائو ڈالا کہ ہم نے ریونیو ٹارگٹ پورا کرنا ہے اس لیے آپ ایڈوانس ٹیکس دیں موبائل کمپنیاں نے 6.5 ارب روپے ایڈوانس ٹیکس دیا لیکن اس کے باوجود ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے، 47 ارب ٹیکس چوری کا معاملہ اب اسلام آباد ہائیکورٹ اور اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو میں زیر سماعت ہے ہم نے رٹ دائر کر دی ہے جس کی سماعت ہوگی، کمیٹی نے اس معامل پر تمام متعلقہ فریقوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔