بازاری کھانوں سے شہری گلے اور پیٹ کے امراض میں مبتلا ہونے لگے

یخ ٹھنڈے پانی سے پیاس بھی نہیں بجھتی، گھر میں تیارکردہ اشیامعیاری اورصحت کے لیے بہترہوتی ہیں۔


Staff Reporter June 02, 2017
 غیر معیاری تیل میں تیاراشیاکھاناخود پرظلم ہے،پروفیسرڈاکٹرطارق رفیع،پروفیسررخسانہ عبدالستار ۔ فوٹو : ایکسپریس

KARACHI: افطار میں غیر معیاری مشروبات اور بازاری پکوڑوں کے استعمال سے شہری گلے اور پیٹ کے امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس لیے ماہرین امراض ناک، کان، گلا اور پیٹ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ رمضان میں اعتدال سے کام لیا جائے۔

سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ای ایم ٹی سرجن پروفیسر طارق رفیع کا کہنا ہے کہ افطار کے وقت بہت زیادہ ٹھنڈے مشروبات، زیادہ میٹھا اور زیادہ ٹھنڈا پانی نہ پیا جائے،یخ ٹھنڈے پانی سے پیاس بھی نہیں بجھتی، ٹھنڈے مشروبات ضرور استعمال کریں، درمیانے ٹھنڈے ہونے چاہئیں، بازار سے خریدی جانے والی تلی ہوئی اشیا غیرمعیاری کوکنگ آئل میں تیارکی جارہی ہیں جس سے گلے اورپیٹ کے امراض لاحق ہورہے ہیں ، افطار میں زیادہ تلی ہوئی اشیا سے گریزکریں،گھر میں تیارکی جانے والی تلی ہوئی اشیا بھی درمیانے انداز سے استعمال کی جاسکتی ہیں اگرگلا خراب ہوجائے تو تلی ہوئی اشیا، زیادہ میٹھی اوریخ ٹھنڈی چیزوں کے ساتھ بازاری پکوڑوں سے بھی پرہیزکیا جائے۔ پرہیز نہ کرنے کی صورت میں گلے اور پیٹ کے امراض سنگین نوعیت اختیارکرسکتے ہیں۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اورماہرامراض ناک کان وگلا پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع نے بتایا رمضان کی آمد کے ساتھ ہی جناح اسپتال میں گلے کے امراض میں مبتلا مریض بڑی تعداد میں آنا شرو ع ہوجاتے ہیں،سارا دن روزے کی حالت میں بھوکا پیاسا رہنے کے بعد افطاری میں شہری بہت زیادہ میٹھے ٹھنڈے ، بازاری مشروبات اور بازاری کھانے استعمال کر لیتے ہیں جس سے ان کا گلا فورا خراب ہو جاتا ہے،رمضان میں انسان کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے بہت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے، ٹھنڈی ،زیادہ میٹھی ،تیل اورکھٹاس والی چیزیں نہ کھائی جائیں۔

جناح اسپتال کے میڈیکل یونٹ 1وارڈ 5کی سربراہ اور ماہرامراض پیٹ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ عبدالستارنے بتایا کہ افطار میں بہت زیادہ کھانے سے گیسٹرو ایٹی رائیٹس اورڈائریا بھی ہو رہا ہے ،ہمارے پاس بڑی تعداد میں پیٹ کے امراض میں مبتلا افراد آتے ہیں،افطارکے لیے غیر معیاری پکوڑے، سموسے اوررول جو غیر معیاری گھی میں بنائے جاتے ہیں اہتما م کے ساتھ خریدکر لائے جاتے ہیں،خوب کھائے جاتے ہیں جو خود پر ظلم کرنے کے مترادف ہیں،پکوڑے زیادہ مت کھائے جائیں اس سے بلڈ پریشر کے مریضوں کا کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر رخسانہ عبدالستار نے کہا کہ صحت مند افراد بھی اعتدال سے کام لیں جبکہ مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو تو اس ماہ میں بہت زیادہ خیا ل رکھنے کی ضرورت ہے۔