کیوں نہیں رک رہی مہنگائی
2008 میں منتخب ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اقتدار میں آکر عملی طور پر کروڑوں عوام سے قطع تعلق کرلیا تھا
ایک عوامی سروے میں مہنگائی کو ملک کا سب سے اہم اور بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ملک کے تقریباً سب لوگ ہی پریشان ہیں اور اسی وجہ سے موجودہ حکومت سے سخت نالاں اور بیزار ہیں اور حکومت کے باقی پونے دو ماہ جلد سے جلد مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کی طرف سے بڑھائی گئی یہ مہنگائی ہی ہے جس کے باعث عوام کی موجودہ جمہوری حکومت ملک بھر میں تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور عوام کی اکثریت جنرل پرویز کی سابق آمر حکومت کو موجودہ جمہوری حکومت سے بہتر قرار دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جنرل پرویز کی حکومت میں بھی مہنگائی بہت تھی جس کی وجہ سے لوگ مشرف حکومت سے خفا تھے اور توقع کیے ہوئے تھے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومت عوام کو ریلیف دے گی اور مہنگائی سے نجات دلائے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔
2008 میں منتخب ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اقتدار میں آکر عملی طور پر کروڑوں عوام سے قطع تعلق کرلیا تھا اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ڈیڑھ دو ہزار ارکان اسمبلی و ممبران پارلیمنٹ ہی کو عوام سمجھ کر انھیں خوش کرنا شروع کردیا تھا اور وفاقی اور صوبائی تمام حکومتوں کی ترجیح اپنے اپنے ارکان کو خوش اور مطمئن کرنا رہ گیا تھا کیونکہ حکومتوں کے لیے یہ ارکان بہت قیمتی تھے جو کروڑوں روپے خرچ کرکے منتخب ہوئے تھے اور ان کے اخراجات وصول کرانے کے لیے حکومت نے ان کے نہ صرف الاؤنسز بڑھا دیے بلکہ ملک اور سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں وزیر بنائے جانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا تاکہ ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد وزیر، مشیر، معاون خصوصی بن کر نہ صرف اپنے انتخابی اخراجات بمعہ منافع وصول کرسکیں بلکہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے لیے کروڑوں روپے جمع کرسکیں جو اب عام انتخابات میں دل کھول کر خرچ کیے جائیں گے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنوں کو نوازنے کا بھی ریکارڈ قائم کیا اور غیر منتخب لوگوں کو بھی کروڑوں اور اربوں روپے کمانے کا بھرپور موقعہ فراہم کیا جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت کے دور میں ہر پاکستانی مزید 11 ہزار 9 سو روپے کا مزید مقروض ہوچکا ہے جب کہ 5 سال قبل وہ دور آمریت میں 26,700/- روپے کا مقروض تھا اور جمہوری حکومت نے اس قرض میں مسلسل اضافہ کرکے 38,600/- روپے فی کس کا مقروض کردیا ہے اور یہ وہ قرضہ ہے جو عوام نے نہیں بلکہ عوام کے نام پر حکومت نے عالمی اداروں سے لیا اور دھڑا دھڑ نوٹ چھاپ کر پاکستانی کرنسی کی بے قدری کرکے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھا لیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں 60 روپے پر رکا ہوا ڈالر جمہوریت کے دعویداروں نے 99 روپے تک پہنچا دیا ہے۔ صرف آئی ایم ایف کے قرضے 5 سال میں 1.414 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کے ہولناک طوفان میں عوام غرق ڈبکیاں کھا رہے ہیں، مگر کوئی انھیں بچانے والا نہیں ہے۔
عوام کو مہنگائی میں پریشان کرنے کی ذمے دار وفاقی حکومت ہے جس نے اپنے اخراجات کنٹرول کرنے کے بجائے حکومتی اخراجات بڑھانے کو اپنا فرض اولین بنائے رکھا اور اپنے عرصہ اقتدار میں اس سلسلے میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا بڑھا کر، کرنسی نوٹ چھاپ چھاپ کر اپنے حکومتی اور غیر ضروری اخراجات پورے کیے جس سے مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے ، مگر وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں کو بھی اس سلسلے میں کوئی فکر نہیں ہے۔
مہنگائی پر کنٹرول، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشوں کے خلاف کارروائی صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے جس میں گڈ گورننس کی دعویدار پنجاب حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتیں ناکام رہی ہیں بلکہ سب نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اور کسی حکومت نے بھی عوام کے اس اہم مسئلے پر توجہ نہیں دی جس کی سزا عوام بھگت رہے ہیں اور اپنے حکمرانوں کو کوس رہے ہیں جنہوں نے عوام دشمنی کا مظاہرہ کیا اور ان کی ساری توجہ اپنی مدت مکمل کرنے اور اپنی اکثریت برقرار رکھنے پر مرکوز رہی۔
صوبائی حکومتوں نے اپنے مفاد اور بیورو کریسی کو پھر اہم بنانے کے لیے کمشنری نظام آتے ہی بحال کردیا تھا جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور بیورو کریسی نے 8 سال تک ناظمین کی ماتحتی میں عوام کے قریب رہنے کے باوجود کمشنری نظام کی بحالی کے بعد عوام کو نظرانداز اور سیاسی حکمرانوں کی خوشامد کا سابقہ طریقہ برقرار رکھا۔ مہنگائی پر کنٹرول اور قیمتوں پر نظر رکھنا وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کا کام نہیں بلکہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنروں کا کام ہے جنہوں نے مہنگائی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی بلکہ بلدیاتی معاملات میں دخل اندازی میں دلچسپی لی۔
قیمتوں پر کنٹرول کے ادارے بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسس کا کہیں وجود نظر آتا ہے نہ مارکیٹ کمیٹیوں کی کارکردگی۔ کمشنری نظام میں عوام کے مفاد کے بجائے ناجائز منافع خوروں کے مفاد کا خیال رکھ کر ان کی مرضی کے نرخ مقرر کرکے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھایا گیا۔ صرف رمضان میں دکھاوے کی کارروائی ہوئی اور گیارہ ماہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو عوام کو بیدردی سے لوٹنے کی آزادی دی گئی۔ بیوروکریٹ اپنے آرام دہ کمروں سے باہر نہیں نکلے اور یہی وجہ ہے کہ مہنگائی نہیں رک رہی کیونکہ یہ حکمرانوں اور بیورو کریسی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کا اہم مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے برسر اقتدار لوگ کوئی کوشش نہیں کر رہے۔