چنیسرگوٹھ مکان سے ملنے والا دستی بم پھاڑ دیا گیا پولیس اطلاع کے 13روز بعد آئی مکین

پرانا روسی ساختہ دستی بم تھا،جرائم پیشہ عناصر خواتین کو سامنے لاکر مجھے ہٹانا چاہتے ہیں، ایس ایچ او محمودآباد.


Staff Reporter January 31, 2013
پولیس نے جینا دو بھر کیا ہوا ہے، صبح شام آپریشن کے نام پر علاقے کے بے گناہ نوجوانوں کو پکڑا جا رہا ہے ،خواتین مظاہرین۔ فوٹو: فائل

چنیسر گوٹھ میں ایک بند گھر میں دستی بم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پہنچ گئی اور بم ڈسپوزل کے عملے کو طلب کرلیا۔

بم کے چاروں طرف حفاظتی بجری کی بوریاں رکھ کراسے پھاڑ دیا گیا، علاقہ مکین خواتین کی بڑی تعداد نے پولیس کے خلاف احتجاج کے دوران بتایا کہ 2 دستی بموں کی13دن قبل موجودگی کے بارے میں پولیس کو اطلاع کی تھی لیکن پولیس نہیں پہنچی ایک بم پھٹنے کے بعد پولیس پہنچی،ادھر ایس ایچ او محمود آباد کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں سے خوفزدہ ہو کر جرائم پیشہ عناصر خواتین کو سامنے لاکر مجھے ہٹانا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چنیسر گوٹھ جھاڑیوں والی کالونی گلی نمبر4میں واقع ایک بند مکان میں دستی بم کی موجودگی کی اطلاع پر ایس ایچ او محمود آباد انسپکٹر شہزادہ سلیم میمن پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور پورے علاقے کا محاصرہ کرلیا، بم ڈسپوزل یونٹ کے عملے کوبھی طلب کر لیا گیا، انسپکٹر شہزادہ سلیم میمن نے ایکسپریس کو بتایا کہ خدا بخش نامی شخص کے کئی سالوں سے بند گھر میں بم کی موجودگی کی اطلاع بدھ کی دوپہر کو ملی تھی۔

 



ایک پرانا سا روسی ساختہ دستی بم تھا جس کی چھوٹی سی پن تھی، بم ڈسپوزل یونٹ نے بم کے چاروں طرف بجری کی بوریوں سے حفاظتی دیوار بنا کر پستول سے فائر کر کے بم کو موقع پر پھاڑ دیا، کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، انھوں نے بتایا کہ چنیسر گوٹھ میں منشیات اور دیگر جرائم کے متعدد اڈے تھے تاہم انھوں نے محمود آباد تھانے کا چارج لینے کے بعد جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پے در پے کارروائیاں کی جس سے وہ خوفزدہ ہو گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک ہفتے قبل انھوں نے مذکورہ علاقے سے بدنام منشیات فروش ایاز کے بھائی طاہر جو قتل کے مقدمے میں مفرور تھا کو گرفتار کیا تھا، طاہر کے ساتھیوں نے اسے چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم اسے نہیں چھوڑا گیا جس پر جرائم پیشہ عناصر نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیے۔