سرسید یونیورسٹی طلبا نے سورج کی روشنی و بجلی سے چلنے والی کار تیار کرلی

گاڑی سولر ٹریکر، پینل، مائیکرو کنٹرولر اور ایل سی ڈیز سے آراستہ ہے،ٹیم لیڈر عبدالرحمن.


Staff Reporter January 31, 2013
سولر انرجی سے چلنے والی گاڑی کا ماڈل۔ فوٹو: ایکسپریس

سر سید یونیورسٹی کے طلبا نے سورج کی روشنی اور بجلی کے ذریعے چلنے والی کار تیار کرلی ہے جو لیکچرار نعمان صدیقی کے زیر نگرانی عبدالرحمٰن خان،فہد اقبال،عامر اقبال، محمد فاروق، سجاد جعفری اور محمدادریس قریشی نے مشترکہ طور پر تیارکی ہے ۔

ٹیم لیڈر عبدالرحمٰن کے مطابق یہ کار خود کار طریقے سے بجلی اور سورج کی روشنی کے ذریعے چارج ہوتی ہے اس میں 220 والٹ کی بیٹری الیکٹرک موٹر سے منسلک ہے کار میں لگا ہوا ''سولر ٹریکر'' سورج کی سمت معلوم کر کے سولر پینل کا رخ سورج کی طرف موڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے کار شمسی توانائی کی مدد سے متحرک ہوجاتی ہے اور رات کی تاریکی میں کام کرنے لگتی ہے ڈی سی موٹر ،ڈی سی موٹر کنٹرولر ،سولرٹریکر اور سولر پینل کے علاوہ مائیکرو کنٹرولر اور جدید طرز کی ایل سی ڈیز بھی اس کار کا حصہ ہیں ایل سی ڈی پر بیٹری اور سولر پینل چارجنگ کے علاوہ کار کی اسپیڈ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

3

اس کار میں جی پی آر ایس سسٹم بھی لگایا گیا ہے تاکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھ کر کار بذریعہ کمپیوٹر چلائی جا سکے، اس کار پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کے اخراجات آئے ہیں، کار کو لمبی مسافت کے علاوہ فیکٹریوں اور ایئر پورٹ میں مسافروں اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے طلبا نے حکومت اور صنعتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ اس کار کی تیاری اور تشہیر میں بڑے پیمانے پرمدد فراہم کی جائے تاکہ ایندھن کے بحران میں یہ کار آمد ثابت ہوسکے۔