تھیلیسیمیا کے علاج کیلیے دی جانیوالی دوا کی قلت سے ہزاروں بچے متاثر

امپورٹرزنے خون بنانے والی دوائیں نہیں منگوائی مذکورہ دوا مارکیٹ میں ناپید ہوگئی


Staff Reporter June 17, 2017
تھیلیسیمیاکے 20ہزاربچوں کودوا دی جاتی ہے، دوا کی فراہمی کیلیے اقدامات کیے جائیں، طاہرشمسی،ثاقب انصاری۔ فوٹو: فائل

تھیلیسیمیا کے بچوں میں خون بنانے میں استعمال کرائی جانے والی دوا مارکیٹ سے ناپید ہوگئی۔

خون کے موروثی مرض تھیلیسیمیا کے بچوں کی دوا ایک ماہ سے مارکیٹ میں شدید قلت ہے ،دوا بیرون ملک سے درآمدکی جاتی ہے ، لیکن گزشتہ ایک ماہ سے امپورٹرزنے خون بنانے والی ہائیڈریا دوا نہیں منگوائی جس کی وجہ سے مذکورہ دوا مارکیٹ میں ناپید ہوگئی، دوا کے استعمال سے متاثرہ بچوں مین خون بنانے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے،دوا نہ ملنے کی صورت میں بچوں کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔

دوسری جانب دوا کی مارکیٹ میں قلت ہونے سے بچوں کے اہلخانہ میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اورحکومت سے درخواست کی ہے کہ دواکی پاکستان میں دستیابی کویقینی بنایا جائے جبکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے سربراہ ڈاکٹر طاہرشمسی اور ڈاکٹر ثاقب انصاری نے ایکسپریس کو بتایا کہ مذکورہ دوا پاکستان میں ایک ماہ سے ناپید ہے، متاثرہ بچوں کے والدین اپنے اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کیلیے دوا کے حصول کیلیے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن دوا بلیک میں بھی دستیاب نہیں۔

علاوہ ازیں ماہرین نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں میں خون بنانے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اس لیے متاثرہ بچوں کو دوا دی جاتی ہے۔ اس سے قبل تھیلیسیمیا کے بچوں میں خون کی کمی کی وجہ سے انھیں ہر ماہ 2سے3 بار انتقال خون کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا تھا ان ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ دوا کی ایجاد کے بعد تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگی آسان ہوگئی۔

ماہرین نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں میں خون کی کمی اور باربار خون لگوانے سے انھیں متعدد پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انتقال خون کے بعد متاثرہ بچوں کی تلی بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ جسم میں آئرن کی اضافی مقدار بھی شامل ہوجاتی ہے جس سے متاثرہ بچے کو مزید طبی مسائل اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ دوا ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد تھیلیسیمیا کے بچوں پر استعمال کی جارہی ہے جس کے محفوظ نتائج برآمد ہوئے ہیں،کراچی میں20ہزار تھیلے سیمیا کے بچوںکومذکورہ دوا فراہم کی جارہی ہے تاہم ایک ماہ سے بچوںکو دوا نہ ملنے کی وجہ سے متاثرہ بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تاہم بچوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ دوا نہ ملنے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ اہلخانہ نے وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی ہے کہ دوا کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے تمام اقدامات کیے جائیں۔