بھارت میں گائے کے پجاریوں کے ہاتھوں ایک اور مسلم نوجوان قتل

ویب ڈیسک  ہفتہ 24 جون 2017
پندرہ سالہ جنید خان سورت کا رہائشی تھا جو عید کی خریداری کےلیے دہلی آیا ہوا تھا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

پندرہ سالہ جنید خان سورت کا رہائشی تھا جو عید کی خریداری کےلیے دہلی آیا ہوا تھا۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

نئی دلی: بھارت میں مودی سرکار کے آنے کے بعد سے مسلمانوں پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے اور ہندو انتہا پسندوں نے گائے کا گوشت ساتھ رکھنے کے جھوٹے الزام میں ایک اور مسلمان نوجوان کو قتل اور اس کے تین بھائیوں کو زخمی کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی 15 سالہ مسلمان نوجوان جنید اپنے بھائیوں کے ساتھ عید کی خریداری کے لئے نئی دلی کی بس میں سفر کر رہا تھا کہ اس کی سیٹ پر بیٹھنے پر ایک شخص سے تکرار ہو گئی، جس کے کچھ دیر بعد ہی 20 سے زائد افراد نے ہندوانہ اور مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ان پر دھاوا بول دیا۔

مقتول کے بھائی ہاشم نے میڈیا کو بتایا کہ بس میں موجود کچھ مسافروں نے ان کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں گائے کا گوشت ہے اور ایسی حالت میں وہ انہیں سیٹ پر بیٹھنے نہیں دیں گے۔ اس پر جنید اور اس کے بھائیوں نے کہا کہ تھیلی میں گائے کا گوشت نہیں بلکہ کھانے پینے کی دیگر چیزیں موجود ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: ’گئوماتا کے محافظ، فسادیوں سے زیادہ خطرناک ہیں،‘ بھارتی صحافی

مگر اس ہجوم نے یہ بات نہیں مانی اور نہ ہی وہ تھیلی کھول کر دیکھی بلکہ بار بار اپنا الزام دوہراتے ہوئے، خنجر لے کر جنید اور اس کے بھائیوں پر ٹوٹ پڑے۔ حملہ آور ہجوم شور مچا رہا تھا کہ یہ لڑکے اپنے ساتھ گائے کا گوشت چھپا کر لے جا رہے ہیں اور انہیں زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔

خنجروں کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جنید خان موقعے پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ مقتول کے بھائی شاکر کی گردن، سینے اور ہاتھوں پر شدید زخم آئے ہیں اور اس وقت وہ اسپتال میں زیرِعلاج ہے۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ جنید سورت شہر کا رہائشی تھا اور عید کی شاپنگ کے لئے نئی دلی آیا ہوا تھا۔ اس واقعے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور اس قتل کے الزام میں ہریانہ کے 35 سالہ رہائشی اجے کمار کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو سال میں گائے کے تقدس کے نام پر بھارت میں درجنوں مسلمانوں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ایسے واقعات کی سنجیدہ تفتیش سے باز رہتے ہیں۔

ہندو انتہا پسندی کی اس تازہ لہر میں ہجوم کی صورت میں حملے قدرِ مشترک کا درجہ رکھتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے نام نہاد ’مشتعل ہجوم‘ کو بھارتی حکومت اور سیاست میں بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے کیونکہ مقدمہ صرف نامعلوم افراد کے خلاف ہی درج کیا جاتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ہندوستانی ادارے صحیح سمت میں تفتیش کرنے کی کوشش تک نہیں کرتے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔